بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم ما شاء الله بدھ 05 / مئی / 2021,

Instagram

وحید الدین خاں کے مفروضوں کی قلعی

2021 Mar 02

وحید الدین خاں کے مفروضوں کی قلعی

ڈاکٹر شیخ شوکت حسین 

وحیدالدین خاں کے کچھ کتابچے گریجویشن کے دوران ہی میں  نے  پڑھ لیے تھے ۔ پوسٹ  گریجویشن  کے لئے علی گڑھ  مسلم یونیورسٹی  آنے کے بعد  ان کی  کتاب ’’اسلام اور عصر جدید کا چیلنج‘‘   پڑھنے کا موقع ملا اور ملاقات کا بھی ۔ ظفرالدین فیضان کی صدارت والی   یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین( 1977-1975) نے اسلام ان دی چینجنگ ورلڈ(Islam in The Changing World) کےعنوان سے ایک سیمنار  منعقد کیا تھا۔ مولانا ابوالحسن علی حسنی ندویؒ عرف علی میاں سے لے کے وحید الدین خاں تک تمام علما و دانشور اس میں شریک  ہوئےتھے۔

وحیدالدین  خاں صاحب کے رہنے کا انتظام یونیورسٹی  گیسٹ ہاوس میں کیا گیا تھا جبکہ  مولانا علی میاںؒ حسب دستور پروفیسر ابرار مصطفی کے ہاں مقیم رہے۔  اس زمانے میں یونیورسٹی میں یہ روایت تھی   کہ  ہر سیمنار کا  ڈنر ولنچ  سرسید ہال میں ہوا کرتا  تھا۔ غالباً ڈنر کے لیے وحید الدین خان کو سرسید ہال لایاگیا تھا -اسی دوران عشاء کے بعد مرزا ضمیر نےخاں صاحب کونماز کے بعدیونیورسٹی جامعہ مسجد سے ملحق ناظم صاحب کے  کمرے میں براجمان دیکھا ۔تقی امینی صاحب گیسٹ ہاوس میں قیام پر اسرار کر رہے تھے اور  خاں صاحب مان کے نہ دے رہے تھے ۔ بضد تھے کہ وہ  اسی کمرے  میں قیام کریں گے۔ میں اور ضمیر صاحب جب  کمرے میں داخل ہوئے تو ناظم صاحب کہنے لگے کہ خاں صاحب یہیں پر قیام کے لیے بضد ہیں،  جب کہ خدشہ ہے کہ  یہاں ٹھنڈک سے ان کی طبیعت خراب ہو جائے گی۔ ضمیر صاحب نے ہاسٹل میں قیام  پر  اصرار کیا ۔ لیکن وحید الدین  خاں صاحب کہاں ماننے والے تھے ۔ وہ وہیں جمے  رہے۔ آخر میں تقی امینی صاحب نے  یہاں بستر کے اہتمام کے لیے کہا اور یوں خاں صاحب کے ٹھنڈ سے بچنے کی صورت بھی نکل آئی  اور ناظم صاحب  کےکمرے میں رہنے کی ان کی ضد بھی پوری ہوگئی۔

وحید الدین خاں صاحب کسی مدرسے کے فارغ نہیں ہیں اسی  لیےاہلِ مدرسہ کو انھیں مولانا کہنے میں تامل ہے۔ ماسٹر   (MA)کرنے کے بعد جماعت اسلامی  ہند کی ثانوی درسگاہ رام پورگئے۔  اس کے بعد کچھ عرصہ جماعت اسلامی  میں رہے   ۔ حسب توقع پزیرائی نہ ملنے پر جمعیت علماء ہند  پہنچے اور  اخبار الجمعیة کی ادارت سنبھال لی۔ جمیعت سے  ان کی ٹھن گئی،  اور وہ وہاں سے نکل گئے۔ لیکن گلی قاسم جان میں جمعیت علمائے ہند کی دی ہوئی   اقامت گاہ نہ چھوڑی ۔ نوبت مقدمہ بازی تک آپہنچی۔

اسی دوران ’’الرسالہ‘‘ شروع کیا اور مولاناسید  مودودیؒ  کی دین کی تعبیر کی تنقید شروع کی۔ جس کادایرہ آہستہ آہستہ حضرت امام حسین ؓ  تک پہنچ گیا۔خاں صاحب کے نزدیک امام حسینؓ کا رویہ  محاذ آرائی    (confrontationist)  کا رویہ تھا جو  ان  کے نقطہ نظر سے   ناپسندیدہ عمل  تھا۔

 

وحید الدین خاں (دائیں)

دریں اثنا  ان کے صاحبزادے ظفرالاسلام  کی لیبیا میں نوکری لگ گی۔  ان کے ذریعہ سے وحید الدین خاں صاحب کو  وہاں  کے صدر کرنل  معمرقدافی کی ’’کتاب سبز‘‘ (The Green Book) کے اردو ترجمہ کرنے کا ٹھیکہ ملا جس کووحیدالدین خاں  صاحب نے بخوبی انجام دیا۔غالبا ًخاطرخواہ آمدنی  کی وجہ  سےخاں صاحب  سرکاروں  اور حکمرانوں کی قربت کے فَضائِل سے واقف ہوئے ۔ جماعت  اسلامی پر تنقید اب ان کا باقاعدہ  مسلک بن چکا تھا ۔باقی عمر اسی کی ترویج میں گزاری ہے۔ وہ  ہر مسئلہ کو اسی زاویہ نگاہ سے  دیکھتے ہیں۔

 وحید الدین خاں  صاحب  کا بنیادی نظر یہ یہ ہے کہ شرعی احکام دوطرح کے ہوتے ہیں؛  ایک وہ جن پر عمل کرنا ہرحال میں لازم ہے۔ مثال کے طور پر نماز جس کی پابندی بہرصورت  لازم ہے۔ دوسرے وہ جن کی ادائگی  کسی اور چیزکے ساتھ لازم وملزوم ہے۔ جیسے زکواۃ کے لیے ایک فرد کا صاحب نصاب  ہونا۔  چنانچہ زکواۃ  کا فرض ہونا اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ  آدمی صاحب نصاب بننے کی کوششیں کرے۔ اسی طرح عدل قائم کرنے یا حدود نافذ کرنے کا فرض اس بات پر منحصر ہے کہ مسلمان صاحب اقتدار ہوں۔ اگر نہیں ہیں  تو یہ اس بات کی دلیل نہیں بن سکتی   کہ مسلمان صاحب اقتدار بن جانے کی کوششیں کریں تاکہ وہ عدل قائم کرنے یا حدود نافذکرنے کی پوزشن میں آجائیں۔

 وحید الدین خاں صاحب کا یہ نظریہ قران و سنت کے صریح احکامات،   خلفائے  راشدین  کے طریقے اور اجماع امت کے برخلاف ہے۔ فقہائے کرام  تو  دارلحرب میں نماز جمعہ کے بھی قائل  نہیں ہیں گویا اسلام کی بنیادی عبادات، کےلیے بھی اسلامی اقتدار  کولازم سمجھتے ہیں۔ وحید الدین خاں  کی جانب سے  کی جانے والی  دین کی تعبیر  نےاسلامی تحریکات کے خلاف دنیائےطاغوت کے لیے ایک نظر یاتی حربہ فراہم کردیا۔ انہیں  مسلمانوں کو یہ باور کرانے کی دلیل مل گئی کہ اقامت دین  تو ان پر فرض ہی نہیں ہے۔

 وحیدالدین خاں کے نظریات  اس نظر یہ کا  تضاد  (antithesis) ہیں جس  کی ترویج واشاعت   شاہ ولی اللہؒ ، سید احمد شہید ؒ،علامہ  محمداقبالؒ،مو لانا  سیدابوالاعلی مودودی ؒ، سید قطب  شہیدؒ، امام خمینیؒ، اور دیگر مفکرین کرتے تھے۔ چونکہ دنیا ئے  طاغوت افغانستان میں روس اور امریکا کی شکست کی وجہ سے سیاسی  اسلام سےخائف ہے، اس لئے اسلامی نظریات کے  مدمقابل جو بھی ہتھیار مل جائے،  اسے استعمال کرنے سے  وہ نہیں چوکتا۔ اسی لیے وحید الدین خاں کی ہر مسلم دشمن  حکومت کی جانب سے پزیر ائی ہے۔ اور ان کی کتابوں کی بڑے پیمانے پر اشاعت کا اہتمام بھی کیا گیا ہے اور مفت تقسیم کا بھی۔ 

کچھ مدت پہلے، وحید الدین خاں نے ایک نیا فتنہ شروع کیا ۔بقول ان کے  نبی ﷺ  کی زندگی اسوہ حسنہ  ہے،  نہ کہ اسوہ کاملہ۔ اس لیے کچھ معاملات میں حضور ﷺسے پہلے آئے  انبیاء کا اتباع کیا جاسکتا ہے۔بات بظاہر بے ضرر لگتی ہے ،لیکن اس  خوبصورت  لبادے میں بات یہ کہی جارہی  ہے  کہ نبی آخرزماںﷺ کا اسوہ ہماری رہنمائی کے لیے کافی نہیں  ہے۔  جو خلا رہ گیا ہے    اسے دیگر انبیاء کی تعلیمات سے  پورا کیا جائے گا۔ 

 وحید الدین خاں صاحب نظام بدلنے کی کوششوں کے مخالف تو  ہیں ہی، اس کے ساتھ ساتھ ملی  تشخص و آثار کے دفاع کی کوششوں  کے بھی مخالف ہیں۔ بابری مسجد کی بازیابی کی کوشش کے وہ اول روز سے مخالف رہے ہیں۔ بلکہ وہ  اس خیال کے  موجد بنے کہ ’’مسلمان بابری مسجد بھول جائیں ہندو دیگرمساجد بھول جائیں اور اس پر قانون سازی کی جائے ‘‘۔  ان کی دلیل یہ تھی ایسا کرنے سے مسلمان ہندوُں کے دل جیت لیں گے اور ہندو مسلم مخاصمت ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی۔  سپریم کورٹ آف انڈیا   نے بابری مسجد  کو ہندوں  کو دینےکے  فیصلے کیا ، اور مسلمانوں  نےخاموشی   سے اس فیصلہ کو قبول کر لیا۔ اس کے  بعد مشرقی دہلی  میں مسلمانوں کا  قتل عام ہوا ، اس سے وحید الدین خاں صاحب  کا مفروضہ قطعی طور پر غلط ثابت ہو گیا۔ اسی طرح اس وقت جس طرح رام مندر کی چندہ مہم کی آڑ میں مسلمانوں کے خلاف جو مہم جوئی  کی جارہی ہے اس نےبھی  ان کی  اس خوش فہمی کی قلعی کھول دی  ہے۔

 اس وقت حال یہ  ہے کہ  ہندو احساس فتح سے بد حواس  ہیں ،وہیں مسلمان شکست خوردہ اور بھارت کی اجتماعی زندگی سے کنارہ کشی اختیار کررہے ہیں۔ یہ  مایوسی ارتداد تک جاسکتی  ہے۔کیونکہ مقابلہ کے بجائے فرار کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ اس فرار کی راہ کو وحید الدین خاں صاحب  صبر و قناعت کا نام دیتے ہیں۔

مسلمانوں میں اس رویے کو پیدا کرنے کے لیے معاونت اور نظریاتی بنیاد فراہم کرنے پر وحید الدین خا ں  آج دنیا بھر میں  خوب نوازے  جا رہے ہیں۔

Subscribe E-letter: AsSeerah+subscribe@groups.io

Your Comment