بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم ما شاء الله جمعه 06 / اگست / 2021,

Instagram

ذکر رفعت کی رفعتوں کا

2021 Apr 01

ذکر رفعت کی رفعتوں کا

ڈاکٹر شیخ شوکت حُسین 

 

خاکی و نوری نہاد، بندۂ مولا صفات

ہر دو جہاں سے غنی اس کا دلِ بے نیاز

 

اس کی اُمیدیں قلیل، اس کے مقاصد جلیل

اس کی ادا دل فریب، اس کی نِگہ دل نواز

نرم دمِ گُفتگو، گرم دمِ جُستجو

رزم ہو یا بزم ہو، پاک دل و پاک باز

(ڈاکٹر محمد رفعت جمعہ  8 جنوری 2021 کو اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔  اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ )

رفعت صاحب سے ہماری ملاقات پہلی مرتبہ 1975 میں تب ہوئی جب میرا داخلہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں قانون کی تعلیم کی غرض سے ہوا۔ اقامت کے لیے مجھے ایس ایس  (سرسید)ھال  الاٹ ہوا تھا۔ قریبی ہاسٹل ماریسن کورٹ میں محمود احمد راتھر  رہتے تھے وہ ہمیں اپنے ساتھ ایس آئی او  (SIO) کے اجتماعات میں لے جاتے ۔یہ اجتماعات اس زمانے میں ایمرجنسی اور اسلامی لائبریری کی تالہ بندی کے سبب راس مسعود ھال کی مسجدمیں ہوا کرتے تھے۔ جن میں  رفعت صاحب بسا اوقات مقرر ہوا کرتے ۔ یہ ملاقات رفتہ رفتہ قرابت اور تنظیمی رشتے میں بدل گی۔ جو گزشتہ پنتالیس سال پر محیط ہے۔ جب تک میں ایس ایس ھال میں رہا عید.بقر عید پر ہمیشہ  نماز کے فوراً بعد ہمارے کمرے    میں آجاتے ۔علی گڑھ سے رفعت صاحب انڈین انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی  (IIT)  کانپور چلے گئے۔ دسیوں مرتبہ وہاں جاناہوا . اسی دوران رفعت صاحب کی والدہ علیل تھیں ہمیں  پتہ چلا تو ان کے ہاں گیا ۔ خیریت پوچھی تو کہنے لگے ڈاکٹر صاحبان جواب دےچکے ہیں آپ سے ہوسکے تو حکیم افہام اللہ کے ہاں چلے جائیں ۔ شاید ان کے ہاں یونانی میں علاج ہو۔ حکیم صاحب کا مطب انونا ہاوس  میں تھا مطب کے باہر سینکڑوں مریضوں کی لائن لگی رہتی۔میں نسخے لے کے وہاں چلا گیا۔حسب معمول با ہر مریضوں کا ہجوم تھا۔ اتنے میں حکیم صاحب کا کوئی پوتا با ہر آیا۔ یونیورسٹی میں طالبعلم ہونے کے ناطے مجھے پہچانتا تھا۔ ہم سے آنے کی وجہ پوچھی۔ اندر جاکرحکیم صاحب کو کچھ اس انداز سے ہمارا تعارف کیا کہ حکیم صاحب ہمیں لینے کے لیے خود باہر چلے آئے۔ میں سامنے کھڑاتھا۔ پوچھ رہے تھے شوکت صاحب کہاں ہیں؟   ہمیں لگا جیسے وہ  شیروانی ٹوپی  میں ملبوس کسی بزرگ کی تلاش میں ہیں۔ میں نے  اپناتعارف کرایا ۔ وہ اپنے  ساتھ اندر لے گئے،  نسخے دیکھے،  اپنی بے بسی کا اظہار کیا۔ ساتھ ہی یہ کہ گئے کہ اس مریضہ کوبہت پہلے دیکھ چکا ہوں اس وقت جو دوائی دی تھی، وہی دیں ۔ حکیم صاحب یونیورسٹی طبیہ کالج کے  سابق پرنسپل، اور صدر جمہوریہ ہند کے معالج ہونے کے ناطے پروٹوکول کے سخت قائل تھے۔ ان کا اس طر ح باہر آنا ہمیں لگا  کہ رفعت صاحب کی کرامت کا نتیجہ تھا۔  آئی آئی ٹی سے  رفعت صاحب جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی  بحثیت استاد آئے،تب ملاقات ہوتی رہی۔ آخری مرتبہ گزشتہ سال فروری۲۰۲۰ ء میں  اس وقت ہوئی  جب مجھے کشمیر میں انٹرنیٹ اور دیگر ذرائع مواصلات کی پابندی کے سبب  صرف اپنا میل چیک کرنے کےلیے دہلی  آناپڑا۔ رفعت صاحب نے لنچ کےلیے ڈیپارٹمنٹ آنے کی فرمائش کی۔  دو گھنٹے تک کشمیر کےحالات کے بارے میں دریافت کرتے رہے۔ 

ان پنتالیس برسوں میں  رفعت صاحب کو ہر صورت میں دیکھا۔ اتفاق بھی رہا  اور اختلاف بھی ہوا ۔امیر  ومامور کا رشتہ بھی رہا ۔سفربھی بارہا ایک ساتھ کیا۔ ہزاروں ملنے والوں میں رفعت صاحب کے علاوہ کسی کو ان صفات پر نہیں پایاجن کا ذکر علامہ اقبال ؒکے مندرجہ بالا اشعار میں کیا گیا ہے۔ رفعت صاحب کو تحریک اسلامی سے قریب لانے کا سہرا غالباً  ڈاکٹراحمداللہ صدیقی کے سر ہے جو انہی کے شعبہ (فزکس) کے طالب علم تھے۔  ان کی فکری پرورش میں خاص طور پر راو ُعرفان احمد خاں کا کلیدی  رول رہا۔ جب رفعت صاحب تحریک سے وابستہ ہوئے تو آج کل کے برعکس اسلام اور اسلامی تحریکات کو مغرب اور ان کے زیر اثر ممالک میں یہ سمجھ کر پزیرائی   کی جا رہی تھی کہ  یہ  کمیونزم  کے خلاف مغرب کی لڑائی میں بطور آلہ کار کے استعمال  ہو سکتی ہیں۔اور افغانستان میں ایسا ہوا بھی ۔   ان تحریکات کے لیے اگر مسائل تھے تو وہ ان ممالک میں تھے جو روس کے زیراثر تھے ۔شاید اسی وجہ سےمصر اور بھارت میں تحریکات پر پابندیاں تھیں جب کہ سعودی عربیہ رابطہ العالم اسلامی(MWL)   افسو  (IIFSO)  اور وامی (WAMY )کے  ذریعہ ان تحریکات کی معاونت  کررہا تھا۔جہاں اصل تحریکات  اس مدد کی جانب راغب ہونے میں پس پیش کا شکار تھیں تحریکات سے وابستہ  کچھ افراد اوراہل مدارس، سعودی مدد کو آل سعود کی دین پسندی کا مظہر سمجھ کربڑھ بڑھ کر بہتی گنگا میں ہاتھ دھولینے کی دوڑ میں لگے ہوئے تھے۔ ندوہ کا پچاسی سالہ جشن اور دیوبند کی صدسالہ تقریبات اسی دوڑ کا حصہ تھیں۔اس صورتحال میں بہتوں نے سکالرشپ، نوکریاں حاصل کیں، کچھ مبعوث بن کے نان و نفقہ  مغربی ایشیاکے ممالک سے وصول کرتے رہے۔ کچھ لوگ ادارے بناکر ان کےنام پر اس فصل بہار  سے مستفید ہوئے، کچھ صاحبان سراپافصل کٹائی  کی مشین بن کے اس فصل پر  ایسے ٹوٹ پڑے کہ  ملی سیاست کا حلیہ بگاڑ کے رکھ دیا۔ کیا عالم، کیا دانشور، سب سے یہ کہہ کر اپنے ہاتھوں  پر بیعت  کروائی کہ ہم مبعوث من السعود ہیں۔علماءبھی اسی طرح ان کی بیعت کے لیےمنتظررہنے لگے جیسے بنی اسرائیل کے علماء مبعوث من اللہ انبیاء کے لیے رہتےتھے ۔

تحریکات جو پہلے خواہشات اور مال و جان کی قربان گاہ بنی   ہوئی تھیں، اب کیریر بنانے کے پلیٹ فارم کے بطور پہچانی جانے لگی ۔ اسلامی تحریکات سے وابستہ سنجیدہ افراد اس صورتحال سے غیر مطمئن  تھے اور تدارک کے لے اقدامات میں لگے ہوئےتھے۔اسی کاوش کا نتیجہ مولانا محمد یوسف ؒ کی جگہ مولانا ابولیث ؒ  کی پھر سےامیر جماعت بننے ، جماعت اور طلبا ءتحریک سے اختلاف اور ان اداروں کے تئیں  جماعت کی برائت پر منتج ہوا۔ رفعت صاحب اسی تطہیر ی عمل کی علامت بن کر  ابھر آئے۔ اپنے اساتذہ اور ہم عصر ساتھیوں کے عمل کے برخلاف وہ کبھی بھی باہر کانفرنس، نوکری یا تعلیم کے لیےنہیں گئے۔ حالانکہ اس کے لیے انہیں سعودی یا ان کے ذیلی ادارو ں کی بیساکھیوں کی بھی ضرورت نہ تھی۔  اپنا معاش ہمیشہ تحریک کی  ذمہ داریوں  اور اس ضمن کی جانے والی کوششوں سے الگ رکھا۔  اور ہر گنجلک موڑ پر تحریک کی فکری راہنمائی کرتے رہے ۔رفعت صاحب فکری آیڈیولوجکل فنڈامنٹلسٹ تھے۔ہم لوگوں کی طرح ڈنڑامنٹلسٹ نہیں جو وقت آنے پر لاٹھی ڈنڈےسے بھی کام لیں۔ اسی وجہ سے وہ زیادہ لائم لائٹ میں نہ رہے، نہ کبھی خبروں کا عنوان بنے۔ جبکہ اسلامی اور دیگر نظریات پر دست رست کی بنا پر ہر ایک کو متاثر کرتے تھے۔             

 رفعت صاحب کی زندگی میں اسلامی تحریکات ایک اور بڑے چلینج سے دو چار ہوئیں۔ یہ چیلنج، انقلاب ایران تھا۔یہ انقلاب اس لحاظ سے بہت اہم تھا کہ ا س نےیہ بات بڑے زور سے دنیا کےسامنے رکھی کہ احیاءاسلام محض ایک رد عمل نہیں ہے جس کا مقصد صرف کمیونزم کے خلاف صف آراہونا  ہے بلکہ مغربی استعماری نظام کی بیخ کنی بھی اس کا ہدف  ہے۔ اس لحاظ سےیہ انقلاب امام حسن البنا شہید ؒکے "لا شرکیہ لاغر بیہ" نعرے کی عملی تعبیر بن گیا۔ اور اس وقت اسلام جو مغرب کا ہدف اولین بنا ہواہے اسکی وجہ بھی  یہی انقلاب بنا۔ ۔گرچہ ورلڈ ٹریڈ ٹاور اور افغانستان میں امریکی رسوائی بھی اس کے ضمنی اسبابِ میں شامل ہیں ۔ اس انقلاب کے بارے میں بھی لوگوں کا رویہ جس افراط و تفریط کا شکار رہا اسکی مثال کے لیے مولانا سلمان ندوی کا رام لیلا میدان میں انقلاب کے خلاف جہاد اکبر کے اعلان سے موجودہ حاشیہ برداری کے رویہ سےدی جاسکتی ہے۔ مثالیں اس کے برعکس بھی ہیں۔ہمارے کچھ دوست اس انقلاب کے زیر اثر سراپا انقلاب بن گئے ، پھر تندی باد مخالف کے تیور دیکھ کر تصوف کی فکر ی آغوش میں پنا ہ گزیں ہوئے۔ ڈاکٹر رفعت اس کے برعکس ایرانی انقلاب کو عالم اسلام کے لیے ایک مثبت عمل مانتے تھے وہیں اس انقلاب کو  وہ سحر ماننے کو تیار نہ تھے جس کی آرزو لیے وہ اور ان کے ساتھی چلے تھے کہ مل جا ئیگی کہیں نہ  کہیں۔  رفعت صاحب کی اس رائے کی وجہ وہ نہج تھی جس نہج پر یہ انقلاب اپنے ابتدائی ادوار خصوصاً امام خمینی ؒکی رحلت کےبعد چلا گیا۔ رفعت صاحب رفعت تھے اس فکر کی شناسائی کے جس کا محور قران و سنت اور مولانا مودودی ؒ کی وہ تشریح تھی جس کی ترویج وہ عمر بھر کرتے رہے۔ یہ الگ بات  ہے کہ جماعت اسلامی نے اس شد مد سے ان کی صلاحیت کا فائدہ نہیں اٹھایا جس شد ومد سے انکی تعزیت کی جا رہی ہے۔

پہلی پود کے آہستہ آہستہ اٹھ جانے کے بعد جو فکری انحطاط جماعت اسلامی پر طاری ہے، اس میں رفعت صاحب کی شخصیت وہ قندیل تھی جس کا نعمل بدل دور دور تک نظر نہیں آتا، کم ازکم جماعت اسلامی ہند کی حد تک، وہ بھی ان حالات میں جو نہ صرف اسلامی تحریکات کے لئے بلکہ پوری ملت کے لیے ایک منجدھار  کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ 

                اللہ  مرحوم کو اپنے جوار رحمت میں اعلی مقام عطا فرمائے.

Your Comment