بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم ما شاء الله پیر 25 / اکتوبر / 2021,

Instagram

مسلم ممالک: جہاد یا جمہوریت ؟

2021 Aug 25

  مسلم ممالک: جہاد یا جمہوریت ؟

 محمد علی

       افغانستان میں 15 اگست 2021ء کا دن اسلامی تاریخ کے ابواب میں ایک اہم سنہرے باب کے طور پر جانا جائے گا۔ یہ وہ دن ہے جس دن مسلم دنیا میں جہاد یا جمہوریت میں سے طریقہ جہاد ایک دفعہ پھر موثر طریقہ انقلاب اور غلبہ دین کے طور پر ثابت ہو چکا ہے۔11ستمبر2001ء کے دن امریکہ کے دو اہم معاشی ستون جڑواں عمارتیں شہر نیویارک میں واقع تھیں دو  کمرشل طیاروں کے ذریعہ تباہ کرکے زمین بوس کردی جاتی ہیں اور امریکہ اس حملہ کا الزام القاعدہ کے امیر اسامہ بن لادن کے سر تھوپ دیتا ہے، جو اس وقت افغانستان ن میں ایک اسلامی تحریک طالبان کے مہمان تھے۔ امریکہ اس وقت افغانستان کے امیر المومنین ملا عمر ؒ کو حکم دیتا ہے کہ وہ اسامہ بن لادن کو بلا تاخیر گرفتار کرکے امریکہ کے حوالے کردے۔ ملا عمر اپنی ایمانی غیرت اور اور بحکم شریعت اسلامی ،فرعون ِوقت امریکہ کے اس  ناجائز مطالبہ کو مسترد کرتے ہوئے امریکہ اور اس کی تمام افواج کے ساتھ جنگ کے خطرہ کو مول لیتے  ہیں، اور چند ہفتوں میں نہ ملا عمر سربراہ افغانستان رہے اور نہ ان کی تنظیم تحریک طالبان حکومت پر برقرار رہ سکی۔ طالبان کو تمام بڑے شہروں سے نکل کر پہاڑوں کا رخ کرناپڑا اور طویل مدتی جنگ میں اپنی جماعت کے افراد  کو نہایت قلیل جنگی وسائل اور اسلحہ کے ساتھ وقت کی سپرپاور اور اس کی حلیف افواج  کےساتھ اپنے منفرد گوریلا انداز سے اللہ کی نصرت اور حمایت کے بھروسے20سال مقابلہ کرتے رہنا پڑا۔55مسلم ممالک نے طالبان کا ساتھ دینے کے بجائے امریکہ اور اس کے غلام اور مجرم حلیف ممالک کا ساتھ دیا۔ پاکستان نے طالبان کے کئی سفارت کار اور سول انتظامیہ سے منسلک افراد کو پکڑ پکڑ کر امریکہ کے حوالہ کیا۔

پاکستان سمیت دنیا کی تمام مسلم جماعتیں،تنظیمیں،اسلامی تحریکات میں سے بھی کئی نے طالبان کے حق میں مسلم رائے عامہ کو ہموار کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ افغانستان میں کسی غیر مسلم حکومت کا جارحانہ حملہ 2001ء میں کوئی نئی بات نہیں تھی۔ 80 کی دہائی میں روس افغانستان پر قابض ہواتھا۔  جن مسلم تنظیموں نے امریکہ کے ناجائز حملہ اور قبضہ پر سکوت اختیار کر رکھا تھا وہی تنظیمیں روس کے قبضہ کو ناجائز قرار دے کر ساری دنیا میں افغانستان کے مسلمانوں کے لیے اخلاقی اور مالی امداد کا بندوبست کرچکی تھیں۔  امریکہ کے ناجائز حملہ اور بعد میں قریب بیس سال افغانستان پر قابض رہنے کے لیے امریکہ نے مسلم ممالک اور جماعتوں اور تنظیموں کے سامنے یہ جواز پیش کیا کہ طالبان غیر پڑھے لکھے،جاہل،دہشت گرد،جدید تہذیب سے نابلد اور جمہوریت کے دشمن ہیں۔ امریکہ افغانستان کی عوام کو طالبان سے نجات دلا کر وہاں جمہوریت اور جمہوریت سے متصل ادارے قائم کرے گا۔ افغانستان کی عوام کو جہاد بھلا کر جمہوریت کا سبق ازبر کرادے گا۔ پھر اسلامی جہاد کی وجہ سے دنیا میں جو دہشت اور قتل وخون کا ماحول ہے،  وہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے گا۔ امریکہ کی اس عیارانہ تاویل سے تمام مسلم حکمراں اور تمام مسلم جماعتیں اور تنظیمیں متفق ہوگئیں۔ کسی مسلم جماعت نے طالبان  پر ڈھائے گئے ظلم پر احتجاج نہیں کیا ،  نہ  امریکہ میں  اور نہ کسی اور ملک میں۔ پچھلے 25سال میں دنیا میں کہیں طالبان کی حمایت میں کوئی ریلی نہیں نکلی۔

       مسلم جماعتوں اور تنظیموں کی طالبان کے ساتھ اپنی بے رخی کا  واحد سبب طالبان کا غیرمغربی انداز فکر اور خلافت راشدہ  کی  طرز پر مبنی عمل تھا جسے امریکہ نے رد کیا تو تمام مسلم جماعتیں امریکہ کے حکم کو بلا کراہیت  قبول کر تی چلی گئیں۔

اسلام میں فکر جمہوریت کا آغاز

       خلافت راشدہ کے دور سے لے کر خلافت عثمانیہ کے دور تک 1300سال میں پارلیمانی جمہوریت اور عمومی اور ہجومی انتخابات کا کوئی تصور نہیں پایاجاتا تھا۔ یہ بات اس دور کے مسلمانو ں کو جاننا بے حد ضروری ہے کہ جمہوری طرز حکومت کا تصور مسلمانوں میں آیا کہاں سے؟  خلافت عثمانیہ کے آخری ادوار میں ینگ ترک ایسوسیشن کا قیام ترکی میں ہوتا ہے۔ اس تنظیم نے ترکی میں جمہوری انداز سے شورش برپا کی تاکہ سلطان عبد الحمید معزول کیے جائیں، سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ ہو، اور اس طرز حکومت و سیاست کو بدل کر آزاد خیال مسلمان ایک سیکولر حکومت کو بذریعہ انتخابات، اکثریت کی آراء کے ذریعہ قانون شریعت سے آزاد ہوجائیں۔ اور  اللہ اور اس کے حبیب ﷺکو مسجد کی چاردیواری تک بزور ووٹ یا رائے شماری محدود کردیں۔ اور  اسلام کے نظام  کو چند رسمی عبادات کی ادائیگی  تک محدود کردیا جائے۔ اس خدا بیزار تحریک کو تمام مغربی استعماری طاقتوں کی اور زیر زمین   صیہونی تحریک کی حمایت حاصل تھی۔  جب کہ جمہوری طرز حکومت سے آل سعود اور خاندان ہاشمی کو ان دشمنان اسلام نے مستثنیٰ رکھا تھا۔ جزیرہ عرب،مصر اور اردن میں ملوکیت کو رائج رکھا گیا ۔

 عرب ممالک  کے مسلمان ہر اعتبار سے پسماندہ تھے تو ان ملوکیتوں کو استعماری طاقتوں کے حکم پر قبول کرلیا گیا۔ جب  ینگ ترک کے ذریعہ خلافت عثمانیہ کا خاتمہ کردیا گیا تو آزادی اظہار خیال کے حامیان نے کمال اتا ترک جیسے جابر شخص کو اسلام پسند افراد پر ظلم وستم ڈھانے کی پوری آزادی دی  اور دین اسلام کی شکل بگاڑنے کا  پوراموقع دیا۔

پوری مسلم دنیا میں جمہوریت کو متعارف کرنے والوں کا اسلام اور اسلام پسندوں کے ساتھ یہی  برتاؤ رہا۔ سلطنت عثمانیہ جو خلافت کے ذریعہ مختلف رنگ،نسل،زبان اور تہذیب کی حامل امت مسلمہ کو تین براعظموں میں ایک کلمہ کی اساس پر جوڑے رکھا تھا،عرب و عجم کے مسلمان اخوت کے ساتھ رہا کرتے تھے اور اب اس آزادی اور جمہوریت کے جادو نے ان کے اندر وطن،علاقہ،نسل،زبان اور قومیت کا شرک پیدا کردیا۔ خلافت میں جو امت ایک جسد واحد تھی، جمہوریت  اور قومیت کے فریب میں آکر 55 سے زیادہ ممالک میں تقسیم ہوگئی۔ جمہوریت کے طفیل ترکی سلطنت جو ایک عظیم مملکت تھی سکڑ کر ایک چھوٹا سا سازشوں میں گھرا ایک ملک  بن کر رہ گیا۔ دوسری جانب قبلہ اول مسلمانوں سے چھن گیا ،اور   صیہونی ریاست مقام  قبلہ اول میں قائم کردی گئی۔ فلسطین کے مسلمان اپنے ہی گھر میں بے گھر ہوگئے۔ دوسری جانب حرمین و شریفین صیہونی غلام آل سعود کے حوالہ اس شرط پر کیا گیا کہ قبلہ اول کو واپس حاصل کرنے کی کبھی کوشش نہ کرنا حتی کہ انعام کے طور پر ان زر خرید غلاموں کو یہ تیقن دیا گیا کہ تمہیں ہم پر فریب جمہوریت کے بجائے عیش و عشرت کرنے اور دین اسلام کی من چاہی تعبیر وتشریح کرنے کے لئے  ملوکیت سے نوازتے ہیں تاکہ تم اطمینان سے اپنے آقاؤں کا ایجنڈا پورا کرسکو۔

سعودی عرب سات دہائیوں تک ظاہری دینداری کا ڈرامہ کرتا رہا۔ اندر سے نئی نسل دین سے دور ہوتی گئی حتی کہ اب وہاں لادینیت کا طوفان برپا ہوچکا ہے۔خلیج کی تمام ریاستوں میں  استعماری وفادار غلاموں کو اصول جمہوریت کے عین خلاف بادشاہ بنا کر خلیج کی عوام پر مسلط کیا گیا۔ وہاں کی کم پڑھی لکھی عوام نے ان مسلط کردہ غلاموں کو بادشاہ مان کر ان کی اطاعت کرتے رہے۔ اس دوران مسلم علماء و دانشوروں کی اکثریت صحیح اسلامی سیاست سے واقف کرانے کے بجائے مسلط کردہ غلام بادشاہوں کی اطاعت کی تلقین کی یا جمہوریت کے ذریعہ رائے عامہ کو اسلام کے حق میں تیارکرنے کی جد وجہد کرتے رہے۔

مسلم علماء اور دانشوروں کی اکثریت اسلام کے فریضہ جہاد وقتال کو منسوخ نہیں تو معطل کر چکی  ہے،اور اسلام میں جو انفرادی اعمال  ہیں  یعنی  صرف ذاتی عبادات پر پوری توجہ دینے لگے۔مسلمانوں میں سے ہر مکتبہ فکر کے علماء اور دانشور مسلمانوں کو رائج نظام حکومت کو مضبوط رکھنے اور اطاعت کرنے کی تعلیم دیتے رہے۔بعض علماء غلام بادشاہوں یا وزراء سے تعلقات اس بنا پر بنائے رکھنا چاہتے تھے کہ موقع پاکر ان خدا نافرمان حکمرانوں کے پورے آداب بجالاتے ہوئے نرمی سے کچھ نصیحت کردیاکریں۔ دوسری جانب بعض جدید مفکرین اسلام جیسے مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ  ایک جامع اور مکمل اسلامی انقلاب کو برپا کرنا چاہتے تھے۔مولانا مودودیؒ کے نزدیک امامت صالحہ اور خلافت علی منہاج النبوۃ کا تصور بھی تھا لیکن اس عظیم ہدف کو پانے کے لیے انہوں نے آئینی،دستوری اور جمہوری  (مغربی) راستہ کو منتخب کیا اور جہاد وقتال کی سوچ رکھنے والوں کی مذمت شروع کردی۔ اور کسی بھی جہادی سرگرمی کو آنے والے اسلامی انقلاب کے لیے سخت نقصان دہ قرار دیا۔مولانا مودودیؒ کے دور میں مصر کے اندر امام حسن البناء اور سید قطب کے ذریعہ ٹھیک یہی جذبہ امامت صالحہ کے قیام کا پرورش پانے لگا۔ سید مودودیؒ اور سید قطبؒ کی آوازوں پر لبیک کہنے والے مخلص افردا میں فرق صرف اتنا تھا کہ سید مودودی ؒکی جماعت کے لوگ اپنے آ پ کو مکمل طور پر جمہوری اصول اور طریقوں کو اختیار کرنے یکسو  ہوچکے تھے اور جہاد وقتال سے مکمل دست        بردار ہوچکے تھے، جب کہ سید قطب ؒکے چاہنے والے بعض افراد جہادوقتال کو اسلامی انقلاب کے لیے ضروری سمجھتے تھے۔لیکن وہاں بھی بڑی تعداد دستوری وآئینی جد وجہد  ہی کو موثر مانتی تھی۔

       جمہوریت ہمیشہ سے پر فریب رہی اور دور جدید کے بلند پایا مفکر کو بھی دھوکہ دے گئی۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے پاکستان کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

       پاکستان کے اہم ترین مفکر اسلام مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی ؒکو اس بات کا یقین ہوچکا تھا کہ وہاں قرار داد مقاصد کے ذریعہ آئینی طور پر مملکت نے اسلام کو قانون ودستور میں فوقیت دینے کا عہد کیا گیا ہے وہ بروئے کار آئے گا۔لیکن پاکستان کا دستور وآئین رئیس المنافقین کی طرح ہمیشہ اسلام کانام لے کر اسلام ہی کے پیٹ میں مختلف موقعوں پر خنجر گھونپتا رہا اور مفکر اسلام اس امید پر الیکشنوں میں حصہ لیتے رہے کہ کبھی نہ کبھی جماعت اسلامی کو اکثریت مل جائے گی تو اس منافقانہ دستور و آئین کو مومن کر لیں گے۔ لیکن مفکر اسلام کی یہ دیرینہ آرزو منافق آئین کے تحت ہونے والے جمہوری انتخابات کے ڈرامہ میں کبھی پوری نہیں ہوسکی۔

جب مفکر اسلام نے اس منافق دستور و آئین کے تحت سن 70میں جماعت اسلامی کو شکست فاش سے دوچار ہوتے دیکھا اور اس کے بعد مملکت خداداد پاکستان کو 71میں  دو ٹکڑے ہوتے دیکھا تو وہ سخت افسردہ ہوئے۔ انھوں نے اخلاقی ذمہ داری کو قبول کیا اور جماعت اسلامی کی سربراہی سے دستبردار ہوگئے۔  خرابی صحت اور جماعت اسلامی کے اندرونی کمزوریوں کے سبب وہ جمہوریت کے برعکس جہاد وقتال کے ذریعہ انقلاب لانے کی کوشش کرنے کے قائل نہیں رہے۔ باقی زیادہ وقت انھوں نے عوامی زندگی ترک کرکے علیحدہ رہنا شروع  کیا اور بہت  جلد اللہ کے پاس چلے گئے۔  ان کے بعد آنے والوں نے  سن 70کی ناکامی کے باوجود اسی ناکام تجربہ کو بار بار دوہراتے رہنے کو اپنے اوپر واجب کرلیا۔ سن  70  سے اب 2021میں ہم پہنچ چکے ہیں۔ قریب 50سال بعد بھی جماعت اسلامی 5%قوت بھی ملک کی پارلیمان میں نہیں بنا سکی ہے۔ جماعت اسلامی کی سیاسی حیثیت اور طاقت پاکستان میں بے حد کمزور ہے۔

جہاد جو کہ خالق کائنات اللہ رب العزت کا پڑھایا ہوا اور سکھایا ہوا بابرکت طریقہ ہے۔اس کو سمجھنے کے لیے ذرا ہم ملک افغانستان کی پچاس سالہ تاریخ پر روشنی ڈالتے ہیں۔اعتقاداً تمام مسلمان،جہاد کو دین کا حصہ مانتے ہیں لیکن فی زمانہ جہاد پر عمل کرنے کو معطل سمجھتے ہیں۔ ملک افغانستان کی جماعت  تحریک  طالبان نے مکمل طور پر اس عمومی فکر کو 27سالہ جد وجہد، اصول اخلاق،ثابت قدمی اور عظیم قربانیوں کے ذریعہ مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا ہے۔15 اگست 2021کے دن کابل کو فتح کرتے ہوئے طالبان نے امریکہ اور ا س کے اتحادی ممالک کی جانب سے قائم کردہ نام نہاد  فراڈجمہوری حکومت کو بزور طاقت ختم کیا اور منتخب صدر افغانستان کو ملک چھوڑ کر راہ فرار اختیار کرنی پڑی۔ رائے شماری میں حصہ لینے والے ان ووٹروں میں سے کسی نے نہیں کہا کہ یہ صدر تو دستوری و آئینی طور پر منتخب ہوکر حکومت چلا رہا تھا، زور زبردستی سے عوامی آراء کے برعکس یہ کیوں نظام بدلا جا رہا ہے ؟ بھارت جیسے ملک نے پارلیمنٹ تعمیر کرکے افغانستان کی مدد کی تھی ۔اب حقیقت واقعہ یہ ہے کہ افغانستان کی پوری عوام جمہوری ڈرامہ کو ایک لمحہ میں رد کر چکی ہے۔اسلام کے طریقہ حکمرانی اور قانون شریعت کو دل سے مان چکی ہے۔

       ان بدلتے حالات میں افغانستان کے باہر جو جمہوریت نواز مسلم جماعتیں،تنظمیں اور دانشوران بیٹھے ہیں وہ طالبان کو مسلسل مشورہ دیے جارہے ہیں کہ طالبان اب جہاد ترک کردیں،مردہ جمہوریت کو افغانستان میں پھر زندہ کریں اور منافقین اور مومنین کو نام نہاد الیکشنی ڈرامہ کے ذریعہ پارلیمان میں ساتھ بٹھائیں۔ افغانستان کے غیور مسلمانوں کو ملک پاکستان کے مسلمانوں جیسا بنا دیں، آدھا تیتر، آدھا بٹیر، آدھا دین اور آدھا کفر اور دعویٰ مکمل اسلام کا۔

طالبان کی قیادت کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ اللہ پر توکل کو قائم رکھیں۔ راہ جہاد کو ترک کرکے جمہوریت کا راستہ  کبھی اختیار نہ کریں۔ ماضی کی حکومت کے لوگ جب تک اپنے مخلص ہونے کا ثبوت نہ دیں ان پر سخت نگرانی رکھیں، اور انھیں کوئی عہدہ یا ذمہ داری نہ دیں۔ عمومی اور ہجومی رائے شماری  سے مکمل ا جتناب کریں ۔رائے شماری کا عمل صرف بلدیاتی ذمہ داریوں کی حد تک محدود ہو اور یہ رائے شماری نہایت شفاف انداز سے انجام پائے، تمام قانون ساز ادارے اور عدالتیں صرف اہل تقویٰ اور کبار علماء کے ہاتھوں میں ہوں۔ دنیوی امور میں متقی،اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کو عدل وانصاف کے ساتھ کام کرنے کا موقع دیا جائے۔دینی و دنیوی تعلیم کو جوڑا جائے۔ ملک کے تمام نوجوانوں کو جہادی تعلیم لازمی دی جائے۔ دنیا میں مجاہدین کی سب سے بڑی اور طاقت ور فوج افغانستان میں تیار کی جائے۔ جہاں جہاں دنیا میں مسلمانوں پر ظلم ہورہا ہے ان مسلمانوں کی مدد کو یہ مجاہدین کی فوج پہنچے اورمظلوم مسلمانوں کو ظالم کافروں سے آزاد کرائے۔ بیت المقدس کو آزاد کرائے،کشمیر کو آزاد کرائے اور برما کے مسلمانوں کو آزاد کرائے۔ ہندوستان کے30 کروڑ  مظلوم مسلمان، احمد شاہ ابدالی کے بعد سے کسی مددگار کو پکار رہے ہیں،  ان کی ممکنہ مدد کی جائے۔  اللہ سے دعا ہے کہ طالبان کو راہ جہاد و شہادت  میں  استقامت بخشے۔ آمین۔

Your Comment