بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم ما شاء الله پیر 25 / اکتوبر / 2021,

Instagram

فتح کابل: کتنی بڑی خبر؟

2021 Aug 27

فتح کابل: کتنی بڑی خبر؟

اشاعت اول جسارت، پاکستان ، 27 اگست 2021

 

جاوید انور

تحریک طالبان افغانستان جسے امارت اسلامیہ افغانستان کہتے ہیں، ان کی فتح کی خبر کوئی معمولی خبر نہیں ہے۔ ایسی خوش خبری تاریخ میں بہت کم ملی ہے۔

ویڈیو

https://www.youtube.com/watch?v=Ue3oPkAqD4g&t=278s

رسول اللہؐ کے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد ان کی خلافت کی ذمے داری چار خلفائے راشدین نے اٹھائی۔ یہ چار خلفا ہیں: ابو بکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ اور علیؓ۔ سیدنا علیؓ کی شہادت کے بعد سیدنا حسنؓ کی چھ یا سات ماہ کی خلافت رہی اور اس کے بعد خلافت ملوکیت میں تبدیل ہوگئی۔ یزید کی نامزدگی کے بعد سیدنا حسینؓ خلافت راشدہ کو دوبارہ قائم کرنے کے لیے اٹھے، لیکن اپنی اور اپنے خاندان اور رشتہ داروں کی قربانی اور شہادت کے باوجود اس خلافت کا اِحیا نہ کر سکے۔ لیکن مسلم امت کے دل میں اس خلافت کو دوبارہ قائم کرنے کے لیے ایک تڑپ، ایک نہ ختم ہونے والی امنگ چھوڑ گئے۔ انہوں نے اپنے خون سے خلافت اور ملوکیت کے درمیان ایک لکیر کھینچ دی تھی۔ مسلم ممالک میں خلافت کے اِحیا کے لیے ملوک پرست یا مغرب پرست مسلمانوں سے جو جہاد ہوتا ہے، اسے چند نادان لوگ مسلمانوں کی آپس کی جنگ سمجھتے ہیں۔ جب کہ یہ آپس کی جنگ نہیں بلکہ دو نظاموں کے مابین جنگ ہوتی ہے۔ یہ وہی جنگ ہے جو کربلا میں سیدنا حسینؓ اور یزید کی فوجوں کے درمیان ہوئی تھی۔ اور یہ حق و باطل کی جنگ تھی۔

خلافت کے احیا اور اس کے قیام کے لیے جو اہل حق کے ساتھ جنگ کے لیے آتے ہیں یا ان کی مْزاحَمَت کرتے ہیں، وہ جنگ حق و باطل کی جنگ ہوتی ہے نہ کہ دو مسلم گروہوں کے درمیان مقابلہ۔ بادشاہی نظام حکومت میں بھی چند بہت اچھے، اور چند اچھے حکمراں آئے، لیکن وہ لوگ نظام تبدیل نہ کر سکے۔ بنو امیہ کے آٹھویں بادشاہ عمر بن عبد العزیزؒ نے خلافت راشدہ کو پھر سے زندہ کرنے کی کوشش کی اور اپنے وقت میں وہ کامیاب بھی ہو گئے تھے۔ لیکن امیہ خاندان کے لوگوں نے انہیں زہر دے کر شہید کر دیا۔ اور اس کے بعد نظام حکومت وہی پرانے طرز پر چلتا رہا۔ ہندوستان میں سترہویں صدی کے آخر میں اورنگزیب نے بھی یہی کوشش کی۔ انہوں نے اکبر بادشاہ کے لائے ہوئے فتنے کے معاشرہ پر پڑنے والے گہرے اثرات کا مقابلہ کیا۔ شریعت کا نفاذ کیا۔ لیکن ان کے انتقال کے بعد ہی ہندوستان میں مغلیہ ملوکیت کا نظام بہت تیزی سے لڑھکنا شروع ہوا۔ جو بالآخر انگریزوں کے گود میں گرا۔ انگریزوں کے نوآبادیاتی دور میں بھی علمائے حق نے اسلام کے اصل سیاسی نظام کو قائم کرنے کی بارہا کوششیں کیں لیکن انہیں کامیابی نہیں مل سکی۔ برطانیہ جب افغانستان میں 1839میں داخل ہوا تو افغانوں نے اس کا جم کر مقابلہ کیا۔ 1842 تک برطانیہ کا ایک ایک سپاہی ذبح ہوگیا تھا۔ افغانوں نے صرف ایک فوجی ڈاکٹر کو زندہ چھوڑ تھا تاکہ وہ باقی دنیا کو افغانوں کی بہادری کے قصے سنائے۔ لیکن افغانستان میں برطانیہ کی اس شکست سے وہاں کوئی اسلامی نظام نہیں آیا۔ بلکہ جلا وطن بادشاہ دوست محمد نے واپس آکر حکومت سنبھال لی۔
شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے بیٹے شاہ عبدالعزیز دہلویؒ کے شاگرد سید احمد شہیدؒ نے بھی انیسویں صدی عیسوی میں اسلامی خلافت کے احیا کی ٹھانی تھی۔ انہوں نے اپنے دو شاگرد جو شاہ ولی اللہؒ کے خاندان سے تھے جن کا نام تھا شاہ اسمٰعیل دہلوی اور مولوی عبد ا لحئی، وہ ان کے ساتھ تھے پورے ہندوستان سے مجاہدین کی فوج تیار کی گئی۔ اْس وقت آج کے پنجاب (دونوں طرف کے)، اور خیبر پختون خوا کے بیش تر علاقے، افغانستان کی سرحد تک، سکھ رنجیت سنگھ کی حکومت تھی۔ بنگال اور ہندوستان کے بہت سے پرگنے اور علاقے انگریزوں کے پاس جا چکے تھے۔ سید احمد شہید نے شمال مغرب، پشاور ویلی میں جو آج کا پاکستان کا خیبر پختون خوا صوبہ ہے اسلامی حکومت، یعنی خلافت اسلامیہ کے قیام کا فیصلہ کیا۔ اس وقت ان کی فوج میں آٹھ ہزار نفری تھی جن کی اکثریت یا تو دینی مدارس کے طلبہ کی تھی یا وہاں سے فارغ علماء کی۔ گویا یہ اس زمانے کی تحریک طالبان تھی۔ 1826 میں ان لوگوں نے صوابی ضلع کے علاقے حْند و زائدا کے شہروں میں اپنا پہلا مرکز بنایا۔ پشتونوں کو جہاد کی سنت یاد کرائی، دین کے قیام اور شریعت کے نفاذ کے فریضہ کو ازبر کرایا۔ روایتی خانوں کو ہٹا کر علماء کے ہاتھ میں حکومتی انتظام آیا۔ دین قائم ہوا اور شریعت نا فذ ہوگئی۔
11جنوری 1827 کو سید احمد کے ہاتھ پر لوگوں نے بیعت کی۔ وہ خلیفہ اور امام مقرر کر دیے گئے۔ لیکن مقامی خان زمینداروں اور باپ دادا کی روایت اور رسم پرستوں نے غداری کی۔ سید کے مقابلے میں سکھوں کا ساتھ دیا۔ سکھوں کی 10ہزار فوج نے سید احمد کے مجاہدین کی جن کی تعداد صرف چھ سو 600تھی بالاکوٹ کے مقام پر 6مئی 1832 کو شکست دے دی۔ سید احمد، شہیدکر دیے گئے۔ اس طرح یہ خلافت اسلامی جو ایک چھوٹے سے شمال مغرب کے ایک چھوٹے سے خطے سے شروع ہوئی تھی ساڑھے چار ماہ سے بھی کم عرصے میں ختم ہو گئی۔ سید کی اگلی منزل کشمیر تھی۔ ان کی نگاہ بہت بلند تھی۔ لیکن دین کے خاطر یہ دنیوی کامیابیاں ان کے نصیب میں نہ تھی۔
1924 میں ترکی میں خلافت عثمانیہ کا چراغ بھی بجھ گیا۔ اسلام کی دشمن قوتوں نے اب اطمینان کا سانس لیا کہ سیاسی موت کے بعد اب اسلام کبھی طاقت بن کر نہیں ابھر سکے گا اور یہ ہمیشہ مغلوب ہی رہے گا۔ حقیقی خلافت (راشدہ) کے بعد جو معنوی خلافت رہ گئی تھی، اس کے آخری سلسلہ ترکی کی خلافت عثمانیہ کو بچانے کے لیے اور اس کے خاتمہ کے بعد اس کے احیا کی کوششیں ہندوستان میں شروع ہوئیں۔ تحریک خلافت کا آغاز علی برادران یعنی مولانا محمد علی جوہر اور شوکت علی نے کیا۔ ملک کے بہت سے مسلم سیاست دانوں اور اعلیٰ دماغوں نے ان کا ساتھ دیا۔ لیکن ا س تحریک کو کس طرح گاندھی نے ہائی جیک کیا، اور کس طرح انگریزوں نے اس کو بدنام اور ناکام کیا، یہ ایک الگ تاریخ ہے۔ یہ مسلمانوں کی سیاست کے میدان میں ایک بہت بڑی شکست تھی۔ اس کے بعد علمائے کرام کی ایک بڑی تعداد ہے جنہوں نے علمی اور فکری محاذ سنبھالا۔ علامہ اقبال نے اپنی شاعری کے ذریعہ اور سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے اپنی نثر کے ذریعہ خلافت راشدہ کے طرز کی حکومت کے احیا کے لیے بہترین علمی، فکری اور تحریکی مواد چھوڑا۔ ان لوگوں نے لوگوں کے خون کو گرمایا، دلوں میں آرزو پیدا کی، حب الٰہی کو پروان چڑھایا، عشق نبی کی تپش کو تیز کیا۔ اس کے نتیجہ میں پہلے پورے ہندوستان کو اسلامستان دیکھنے کی خواہش پیدا ہوئی اور پھر بعد میں اسے ممکن نہ پاکر تقسیم ہند اور پاکستان کی تحریک چلائی گئی۔ یہاں بھی وہی جذبہ تھا، یعنی نبوی طرز کی ریاست مدینہ اور خلافت راشدہ کے احیا کا جذبہ۔ قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی قیادت میں پاکستان کا قیام عمل میں آ گیا۔ لیکن بہت جلد سول اور فوجی بیوروکریسی نے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ اور آج تک پاکستان انہیں کے چنگل میں ہے۔ یہ وہ طبقہ تھا جو صدیوں سے انگریزوں کی نوکری اور ان کی خدمت کرتا رہا تھا، غلامی اس کی گھٹی میں تھی، غلامی اس کا مزاج بن چکا تھا، غلامی ہی اس کی ذہنی غذا بھی تھی اور جسمانی بھی۔ مادہ پرستی، مال کی محبت، اور اقتدار کی جاہ ہی اس کی زندگی کے اصل مقاصد تھے۔
پاکستان کو اس کی اسلامی منزل تک پہنچانے کے لیے جماعت اسلامی کی اقامت دین کی تحریک بھی ہے، اہل سنت و جماعت کی نظام مصطفی کی تحریک بھی، اور تمام دینی جماعتوں کی نفاذ شریعت کی تحریک بھی، لیکن ان سب کو روکنے کے لیے مغرب کا اِستِبدادی جمہوریت نظام آڑے آتا ہے۔ مغربی جمہوریت ایک منظم طاقتور اقلیت کے غلبہ کو یقینی بناتی ہے۔ یہاں سول اور فوجی بیوروکریسی اور زمیندار سیاستدانوں کا مثلث جمہوریت کو مینج کرتا رہا ہے۔ اور اس طرح پاکستان میں اسلامی نظام حیات کے امکانات معدوم ہوتے چلے گئے۔
70 کی دہائی میں ایران میں ہلچل شروع ہوئی۔ ایران امریکا کا مسلم دنیا کا میں سب سے بڑا پارٹنر تھا۔ اور شاہ آف ایران محمد رضا پہلوی اس کا سب سے بڑا دوست۔ ایران کے علماء نے مْتَّحِد ہوکر امام خمینی کی قیادت میں شاہ اور امریکا کے خلاف ایک زبردست عوامی تحریک چلائی۔ ایران کی غیر مسلح عوام کی اجتماعی قوت نے دنیا کی سب سے مسلح قوت ایران اور امریکا کو شکست دے دی۔ ایک سال ایک ماہ کی جِدّ وجِہد کے بعد وہاں فروری 1979 میں اسلامی انقلاب آیا، اور وہاں پر قائم مغربی نظام زندگی کو سمیٹ کر پھینک دیا گیا۔ اس اسلامی انقلاب میں چونکہ کچھ ایرانی قوم پرستی اور شیعت کا بھی عْنصَر پایا جاتا تھا اس لیے بقیہ اسلامی دنیا کے لیے یہ آئیڈیل نمونہ نہ بن سکا۔ اس دوران عرب دنیا نے مل کر ایران پر چڑھائی کر دی تاکہ ایران کو کچل کر اسلامی انقلاب سے اپنے آپ کو بچا سکیں۔ لیکن ان سب نے اپنے آپ کو امریکی اور اسرائیلی غلامی میں ڈال کر برباد کر لیا۔
ایران کے علماء اور عوام نے امریکا کو شیطان کبیر کہا۔ امریکا کے ایران سے نکلنے کے بعد ایک سال کے اندر اندر یعنی دسمبر 1979 کو سویت یونین افغانستان میں فوج لے کر داخل ہوا۔ اس کا ارادہ تھا کہ وہ اب ایران اور پورے عرب دنیا کے گرم پانی یعنی تیل پر قبضہ کر لے گا، اور امریکا کی برتری ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی۔ اور اس پورے خطے میں کمیونزم کا سرخ انقلاب آجائے گا۔ افغان مجاہدین جس کی قیادت اس وقت زیادہ تر یونیورسٹی کے طلبہ پر مْشتَمِل تھی، اس نے سوویت یونین کے خلاف جہاد کے لیے بندوق اٹھائی، تو اللہ کی نصرت حاصل ہوتی چلی گئی۔ ادھر امریکا بھی اپنے کو بچانے کے لیے ان کی مدد کے لیے آگیا۔ فروری 1989 میں سویت یونین کو بالآخر مار بھگایا گیا۔ اس کے بعد خود سویت یونین ٹوٹ کر بکھر گیا۔ ادھر فتح کے بعد مجاہدین کی ایک درجن جماعتیں مل کر حکومت کے قیام پر اورا س کے واضح نقشے پر مْتَّفِق نہ ہو سکیں۔ اور دوسری طرف امریکا وہاں اسلامی مجاہدین کی حکومت چاہتا بھی نہیں تھا۔ اس خَلامیں تحریک طالبان ایک نئی جہادی قوت بن کر 1994میں اٹھتی ہے اور دو سال کے اندر اندر 1996میں کابل کی حکومت سنبھال لیتی ہے اور آہستہ آہستہ افغانستان کے 98فی صد علاقوں پر قبضہ کر کے شریعت نافذ کر دیتی ہے۔ ملک میں امن قائم ہو جاتا ہے، جرائم کا مکمل خاتمہ ہوتا ہے، ہیروئن کی کاشت ختم کرائی جاتی ہے۔ عدل اورمْساوات قائم ہوتا ہے۔ ادھر امریکا کی اطاعت سے نکلنے، اور خدا کی اطاعت میں آنے کے جرم میں تحریک طالبان، امریکا کے زیر عتاب آتی ہے اور نائن الیون کے بہانے سے امریکا دنیا کے تقریباً پچاس ملکوں کے ساتھ اکتوبر 2001 میں افغانستان پر فوجی حملہ کرتا ہے۔ شہروں میں فضا سے کارپیٹ بمباری کرتا ہے۔ اور کھنڈر بنا دیتا ہے۔ طالبان سے منسلک تمام افراد شہروں کو چھوڑ کر پہاڑوں میں چلے جاتے ہیں۔ کابل پر امریکا کی ایک کٹھ پتلی حکومت قائم کی جاتی ہے۔ بیس سال کے گوریلا جنگ کے بعد یہ ایک اکیلا چھوٹا سا گروہ جس کا اللہ پر کامل یقین اور توکل تھا، پوری دنیا سے ٹکرا گیا۔ اور فاتح بن کر نکلا۔ امریکا کی آخری کوشش اب صرف یہ ہے کہ ہر امریکی بحفاظت وہاں سے نکل جائے۔ کابل میں طالبان کا داخلہ اسی طرح ہوتا ہے جس طرح رسول اللہؐ کا داخلہ فتح مکہ کے وقت ہوا تھا۔ مقابل میں کوئی طاقت نہیں اور عام معافی کا اعلان ہوتا ہے۔ تحریک طالبان نے شریعت کے نفاذ کے ساتھ اسلامی نظام حکومت کی بات کی ہے۔ افغان کا قومی اور وطنی جھنڈا ہر جگہ سے اتار کر پھینک دیا گیا ہے۔ اس کی جگہ لا الہ الاللہ محمد الرسول اللہ والا سفید جھنڈا لہرا رہا ہے۔ مغربی میڈیا، ملک کے اندر موجود لبرل، سیکولر، قوم پرست، نسواں پرست (Feminist) اور مغرب پرست، عناصر طالبان کے خلاف مہم میں بہت تیزی دکھا رہے ہیں۔ لیکن جب اللہ کی مدد آجاتی ہے تو دشمن کا کوئی داو پیچ کام نہیں کرتا ہے۔ تحریک طالبان کے مجاہدو! آپ کو عظیم فتح مبارک ہو۔

itbar khan

ماشااللہ بہت خوب

Parwaiz Akhtar

Ma Shaa Allah بہترین تجزیہ، بہترین ویڈیو

Your Comment