بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم ما شاء الله ہفتہ 27 / نومبر / 2021,

Instagram

عورتوں کے حقوق: امریکا بمقابلہ طالبان

2021 Oct 16

عورتوں کے حقوق: امریکا بمقابلہ طالبان
                    اشاعت اول ، جسارت، مورخہ 16 اکتوبر 2021
 
 جاوید انور

امریکا اور پوری مغربی دنیا افغانستان میں عورتوں کے حقوق کو لے کر بہت فکر مند ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ عورتوں کے حقوق کی فکر رکھنے والا، اور اس کا چمپئن کہلانے والا امریکا 50 ممالک کے تعاون سے اکتوبر 2001 میں افغانستان پر پوری طاقت سے حملہ کرتا ہے۔ اس وقت وہاں طالبان کی حکومت تھی۔ ان پر الزامات کی فہرست میں یہ بھی تھا کہ وہ عورتوں کے حقوق غصب کر رہے ہیں۔ لڑکیوں پر تعلیم کے دروازے بند ہیں۔ عورتوں کی مرضی اور خواہشات کے مطابق وہاں زندگی گزارنے کی آزادی نہیں ہے۔ طالبان کو اس جرم میں سزا دینے کے لیے انٹرنیشنل کولیشن فورس مسلسل کئی روز کارپیٹ بمبنگ کرتی ہے۔ سوویت یونین کی بمباری سے بچے کھچے افغانستان کو مسمار کر دیتی ہے۔ 20 سال تک افغانستان میں ان کے حقوق کا چمپئن بننے والا امریکا، جب اس سال اگست 2001 میں افغانستان سے نکل جاتا ہے تو اس جنگ کے نقصانات کا اعداد و شمار پیش کرتا ہے۔ امریکا کی ایسوسی ایٹڈ پریس ایجنسی کی جاری کردہ حالیہ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں امریکی افواج کے 2,448 افراد مارے گئے جب کہ نجی ٹھیکیدار فوجی 3,846 مارے گئے۔ یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی پرائیویٹ کمپنیوں کی فوج، امریکی سرکاری فوج سے کہیں زیادہ تھی۔ امریکا کی کٹھ پتلی حکومت کے مارے جانے والے فوجیوں کی تعداد 66ہزار ہے۔ دیگر بین الاقوامی اتحادی فوج کے 144 افراد مارے گئے۔ طالبان اور ان کے اتحادی مجاہدین کی شہادت کی تعداد 51,191 ہے۔ امداد دینے والے امدادی کارکنان یعنی ریلیف ورکرز کی تعداد 444 ہے۔ جب کہ صحافیوں کی تعداد 72 ہے۔ شہید ہونے والے افغانستان کے عام شہریوں کی تعداد 47,245 ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ سویلین افراد کی موت کی انہوں نے گنتی ہی نہیں کی ہے۔ تمام آزاد ذرائع اسے لاکھوں میں بتاتے ہیں۔ بہرحال امریکا جو بھی تعداد بتاتا ہے اس سے گزارش یہ ہے کہ ان تما م زمروں میں ماری جانے

ویڈیو

YouTube: As-Seerah

والی عورتوں اور بچوں کی تعداد الگ سے بتا دے۔ لیکن آپ یقین کریں عورتوں کے حقوق کا عالمی چمپئن یہ نہیں بتاتا۔
سب سے پہلے ہم امریکا میں عورتوں کے حالات کا ذکر کرتے ہیں۔ پہلے نمبر پر عصمت دری کے واقعات کو لے لیں۔ واضح رہے کہ امریکا میں عصمت دری کے واقعات صرف 20 فی صد ہی رپورٹ ہوتی ہیں۔ رپورٹ کیے جانے والے مقدمات کے مطابق امریکا میں ہر چھٹی عورت کی یا تو عصمت دری ہوئی ہے یا اس کے لیے حملہ ہوا ہے۔ 2019 کے اعداد وشمار کے مطابق ریپ کے واقعات جو رپورٹ ہوئے یعنی 20فی صد تو ان کی تعداد بھی 652,676 ہے۔ یہاں ہر 93 سیکنڈ میں ایک لڑکی یا بچہ جنسی تشدد کا نشانہ بنتا ہے۔41.8فی صد سے زیادہ عورتوں پر جنسی حملہ ہو ا۔ 80فی صد سے زیادہ ایسا حملہ 25 سال سے کم عمر لڑکیوں پر ہوا۔ امریکا میں لڑکوں پر بھی 20فی صد جنسی حملہ ہوتا ہے۔ اس میں سے ایک چوتھائی 10سال سے کم عمر بچوں کی ہوتی ہے۔ اپاہج بچے اور بچیوں پر یہ حملہ زیادہ ہوتا ہے۔ 20ہزار جنسی حملے تو امریکی فوج کے اندر ہوئے ہیں۔
ایک سروے کے مطابق امریکی بچوں پر جنسی حملہ کی تعداد 7.2فی صد ہے۔ ان متاثرین کی 95فی صد تعداد ایسی ہے جو یقین سے جانتی ہے کہ ان کے ساتھ زیادتی کس نے کی ہے۔ یعنی وہ پہلے سے جاننے والے لوگ تھے، جس میں بڑی تعداد ان کے رشتہ داروں کی ہے۔ جنسی تشدد کے باعث ہر روز 70 عورتیں خود کْشی کر رہی ہیں۔ سب سے گھنائونا پہلو یہ ہے کہ ایک ہزار جنسی حملوں کے مجرمین میں سے 995 کو کوئی سزا ہی نہیں ہوتی ہے۔ یہ تمام اعداد و شمار ان کے اپنے ہیں، یعنی امریکی اداروں ہی سے لیے گئے ہیں۔
امریکا کا عدالتی نظام صرف مجرموں کے تحفظ کے لیے ہے۔ وہ شریعت سے اسی لیے گھبراتے ہیں کہ شریعت کا نظام مجرموں کی سزا کو یقینی بناتا ہے۔ اور یہ لوگ مجرموں کا تحفظ چاہتے ہیں۔ مظلوم عورتیں جن کی ایک بڑی تعداد خود کْشی کر لیتی ہے، ان سے ان کو کوئی سروکار نہیں ہے۔ امریکا میں گھریلو تشدد کا حال یہ ہے کہ ہر ایک منٹ میں 20 عورتیں اپنے خاوند یا اپنے بوائے فرینڈ سے پٹتی ہیں۔ ایک عام دن میں، ملک بھر میں گھریلو تشدد کی ہاٹ لائنز پر 20ہزار سے زائد فون کالز کی جاتی ہیںگھریلو تشدد کے19فی صد مواقع پر اسلحہ بھی استعمال ہوتا ہے۔ اور ملک میں بڑھتی ہوئی بندوقوںکی موجودگی میں عورتوں کے قتل کے خطرے میں 500فی صد اضافہ ہوچکا ہے۔
ایک امریکی خاتون صحافی غالباً 2004 یا 2005 میں مجھ سے ملنے نیویارک آئی تھیں۔ وہ نئی مْسلِمَہ تھیں۔ اس وقت وہ مصر میں ایک اسلامک نیوز ایجنسی کے ساتھ منسلک تھیں، اور مسلم رائٹرز کی تلاش اور ملاقات کے لیے امریکا آئی تھیں۔ ان کے شوہر مصری عرب تھے۔ کہنے لگیں کہ نیویارک کی سڑکوں پر چلتے ہوئے مجھے ڈر لگتا ہے۔ میں نے تعجب سے پوچھا اور مصر کے سڑکوں پر؟ کہنے لگیں کہ وہاں ہم اپنے آپ کو محفوظ سمجھتے ہیں اور کوئی خوف نہیں ہوتا۔ جب کہ عام طور پر دنیا میں تاثر یہ ہے کہ امریکا اور یورپ کی سڑکیں عورتوں کے لیے محفوظ ہیں، اور مسلم دنیا کی سڑکیں غیر محفوظ۔
خیر یہ تو امریکا کے اندر عورتوں کی صورت حال ہے۔ باہر کی دنیا میں امریکا کیا کچھ کرتا رہا ہے، اس کی کہانی بہت ہولناک ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد شکست خوردہ جرمنی میں امریکا، برطانیہ اور روس کی فوجوں نے 2.5 ملین یعنی 25 لاکھ سے زیادہ عورتوں کے ساتھ ریپ کیا۔ دوسری جنگ عظیم اور اس کے بعد دنیا میں کوئی ایسی جنگ نہیں ہوئی جس میں امریکا براہ راست یا بالواسطہ ملوث نہ ہوا ہو۔ 85 ملین لوگ دوسری عالمی جنگ میں مارے گئے، جن میں میں بہت بڑی تعداد عورتوں کی ہے۔ یہ جنگ امریکا کے اسلحہ سے لڑی گئی۔ دونوں طرف کے ممالک نے اسلحہ امریکا ہی سے خریدا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد کی جنگوں میں امریکا کے سرکاری شماریات کے مطابق ان کی طرف سے 12ملین لوگوں کا قتل ہوا۔ اس میں بھی بڑی تعداد عورتوں کی ہے۔
اسلام سے قبل دور جاہلیت کے عرب میں عورت بے وَقعَت تھی۔ ایک بڑی تعداد بچیوں کی پیدا ہوتے ہی زندہ دفن کر دی جاتی تھی۔ ایک مرد جتنی چاہے عورتیں رکھ سکتا تھا۔ ایک مرد سو سو عورتیں بھی رکھتا تھا۔ عورت کو وراثت میں کوئی حصہ نہیں ملتا تھا۔ اس وقت بقیہ دنیا کا بھی حال بہت برا تھا۔ ہندوستان، مصر، ایران اور چین وغیرہ میں بھی عورتوں کی دور دشا تھی۔ کہیں بھی وِراثَت اور جائداد کی ملکیت میں حصہ نہیں تھا۔ عورت صرف مرد کی خادمہ ہی سمجھی جاتی تھی۔
جب برطانیہ نے امریکا پر قبضہ کر لیا اور مقامی آبادی کو یا تو قتل عام کر کے ٹھکانے لگا دیا یا جانور سے بدتر زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا۔ تو 1769 میں قابض حکومت یعنی قابض استعماری طاقت کے حکمراں کا حکم آیا کہ عورت نہ اپنے نام نہ کوئی جائداد رکھ سکتی ہے نہ اپنے پاس اپنی کسی آمدنی کا رقم رکھ سکتی ہے۔
1839 میں پہلی ریاست میسی سیپی ہے جہاں مرد کی اجازت سے عورت کو جائداد رکھنے کا حق حاصل ہوا۔ 1777 میں قانون یہ آیا کہ عورتوں کو ووٹ دینے کا حق نہیں ہوگا۔ 1866 میں دستور میں ترمیم کر کے (چودہویں ترمیم) کے ذریعے شہری اور ووٹرز کی تعریف میں صرف مرد کا ذکر ہوا۔ یعنی عورت قانوناً نہ ووٹر تھی نہ شہری۔ 1873 میں عدالت عظمیٰ نے رولنگ دی کہ ہر ریاست کو یہ اختیار حاصل ہے کہ شادی شدہ عورت کو لا پریکٹس کرنے سے روک دیا جائے۔ آج بھی امریکا میں عورتوں کی حیثیت ایک جنسی کھلونے کی اور اشتہار کی ماڈل کی حیثیت سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے۔ وہ مغرب کے ڈسپوزیبل کلچر کا ایک ڈسپوزڈ آئٹم ہے۔ امریکا مسلم دنیا میں ہر جگہ عورت وزیراعظم دیکھنا چاہتا ہے، جب کہ امریکا میں آج تک کوئی عورت صدارت کے عہدے تک نہیں پہنچ سکی۔
عورت کا احترام ان کے نزدیک حال کی تاریخ میں کیا ہے اس کا اندازہ بہن عافیہ صدیقی کے مقدمہ سے لگایا جاسکتا ہے۔ کہ کس طرح ایک معصوم بے قصور عورت کو ریاست نے چارج کیا، اور 86 سال کی سزا سنائی دی۔ جب کہ یہ ثابت ہو چکا تھا کہ اس کے ہاتھوں سے کسی کا قتل نہیں ہوا۔ حیرت اس بات پر ہے کہ امریکا جس نے عورتوں کا سب سے زیادہ قتل عام کیا ہے، سب سے زیادہ ریپ کیا، اس پر سب سے زیادہ ظلم کیا ہے۔ اسے تمام بنیادی انسانی حقوق سے محروم کرکے مردوں کے ہاتھ میں ایک کھلونا بنایا ہے، وہی امریکا افغانستان کے طالبان حکومت کو عورتوں کے حقوق کے معاملہ پر اخلاقیات سکھا رہا ہے۔ اخلاقی معلم بنا ہوا ہے۔ ہے نہ عجیب بات؟
کیا آپ کو معلوم ہے کہ افغانستان سے روس کے جانے کے بعد جب امریکا نے وہاں انارکی پیدا کی۔ سول وار کی کیفیت ہو گئی۔ اس صورت حال میں عورتوں پر جنسی حملے شروع ہوئے تھے اسے روکنے کے لیے ہی دینی علماء اور طلبہ کھڑے ہوئے تھے اور وہی طالبان کے نام سے منظم ہوئے، اور یہی وہ طالبان ہیں جنہوں نے اپنے خلاف جمع ہونے والی دنیا بھر کی فوج کو شکست دی ہے۔
کیا آپ کو معلوم ہے کہ طالبان کے گزشتہ پانچ سالہ حکومت میں عصمت دری کا کوئی واقعہ نہیں ہوا تھا۔ وہاں کوئی کسی عورت کو میلی آنکھ سے دیکھنے کا جرأت نہیں کر سکتا۔ طالبان نے عورتوں کو وہ تمام حقوق دیے ہیں جو اسلام نے دیے ہیں۔ وہ اپنا آزاد مستقل وجود بھی رکھتی ہے اور وہ مردوں سے، ماں کی حیثیت سے، بیٹی کی حیثیت سے، بہن کی حیثیت سے، اور بیوی کی حیثیت سے تمام حقوق حاصل کرتی ہے۔ وہ جائداد رکھ سکتی ہے وہ کاروبار کر سکتی ہے۔ اس کا وراثت میں حصہ ہوتا ہے۔ طالبان کی نئی حکومت نے تمام اسپتالوں اور پرائیویٹ اداروں میں عورتوں کو اپنے کام پر بنے رہنے کی اجازت دی ہے۔ لڑکیوں کے علیحدہ اسکول چل رہے ہیں۔ ایک افغان اپنی بیوی اور بچوں اور بوڑھے والدین کی کفالت اور ان کی حفاظت میں اپنی پوری زندگی لگا دیتا ہے۔ اسلام نے عورتوں کو حقوق زیادہ دیے ہیں اور ذمے داریاں کم دی ہیں۔ مردوں کی ذمے داریاں بہت زیادہ ہیں حقوق کم ہیں۔ اسلام نے عورتوں کا روحانی مقام ومرتبہ بھی بلند کیا ہے۔ ماں کے قدموں تلے جنت رکھ دی ہے۔
سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہؐ کے پاس آیا اور کہا: (اللہ کے رسولؐ! میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟ تو آپؐ نے فرمایا: تمہاری ماں۔ اس نے کہا: ان کے بعد؟ آپؐ نے فرمایا: تمہاری ماں۔ اس نے کہا: ان کے بعد؟ تو آپؐ نے فرمایا: تمہاری ماں۔ اس نے کہا: ان کے بعد؟ تو آپؐ نے فرمایا: تمہارا باپ۔ (بخاری ومسلم)
اللہ نے انسان کے اپنے تخلیق کے عمل میں عورت کو شامل کیا ہے۔ اسی کے بطن سے اللہ تعالیٰ پیدائش عمل میں لاتا ہے۔ عورتوں کو بچوں کی نگہداشت، پرورش، تعلیم وتربیت کی سب سے اہم ذمے داری سونپی گئی ہے۔ اسے معاش کی ذمے داری نہیں دی گئی ہے، کیونکہ یہ بھاری ذمے داری ہے۔ اس کو قیادت کی ذمے داری نہیں دی گئی ہے کیونکہ یہ بہت سخت ذمے داری کا کام ہے۔ اسے گواہی کی ذمے داری بھی آدھی کر کے کم کر دی گئی ہے۔ کیونکہ گواہی دینا خطرناک کام ہے اس میں جان جانے کی نوبت بھی آجاتی ہے۔ عورت بہت قیمتی شے ہے۔ اس لیے اسے ڈھانپ کر حجاب اور نقاب میں باہر نکالا جاتا ہے۔ جس طرح ہیرے جواہرات، اور سونے کے قیمتی زیورات کو پیک رکھا جاتا ہے۔ اسے کور کیا جاتا ہے۔ ہر قیمتی اور نفع بخش پھل مضبوط چھلکوں کے اندر ہوتا ہے۔ اگر انار کے گرد مضبوط کور نہ ہو، اور کیلا بغیر چھلکے کا بازار میں ہو تو کوئی اسے لینا پسند نہیں کرے گا۔ عورت اور مرد کی ذمے داریاں الگ ہیں دونوں کے حقوق اور فرائض الگ ہیں۔ چنانچہ دونوں کا نظام تعلیم اور دونوں کی اسکولنگ الگ ہوگی اور ہونی چاہیے۔ طالبان جو افغانستان میں کر رہے ہیں وہ عین اسلام کے مطابق کر رہے ہیں۔ مغرب اور مغرب زدہ لوگوں کی خواہشات کے مطابق وہ اپنا نظام نہیں بنائیں گے اور نہ انہیں بنانا چاہیے۔ ہم اپنے تمام مسلم بھائیوں سے گزارش کریں گے کہ وہ امریکی اور مغربی پروپیگنڈے کا شکار نہ ہوں۔ ہم اپنے ان غیر مسلم بھائیوں سے بھی کہیں گے کہ جنہوں نے مسلم فیملی کا نظام قریب سے دیکھا ہے، وہ اسلام کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ جب اسلام سمجھ جائیں گے تو طالبان کو سمجھنے میں آسانی پیدا ہوگی۔ اور اسی میں سب کی بھلائی ہے۔ اور ہم سب بھی مغرب کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ:
شَفَق نہیں مغربی اْفْق پر یہ جوئے خوں ہے یہ جوئے خوں ہے!
(علامہ محمد اقبالؒ)

Your Comment