بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم ما شاء الله ہفتہ 27 / نومبر / 2021,

Instagram

عورتوں کے حقوق : بھارت بمقابلہ طالبان

2021 Oct 27

عورتوں کے حقوق : بھارت بمقابلہ طالبان

جاوید انور

طالبان نے  امریکا اور اس کےبین الاقوامی اتحادی افواج کو جب افغانستان سے مار بھگایا  اور اشرف غنی صدارتی محل چھوڑ کر  ملک سے  فرار ہو گیا  تو انڈیا کو بھی وہاں  اپنے  درجنوں  قونصل خانوں  کو  چھوڑ کر جانا پڑا۔ اس کے بعد سے انڈیا کے  دانشوروں، صحافیوں، اور سیاست دانوں  کو افغانستان کی عورتوں  کے حقوق کی فکر لاحق   ہو گئی ۔ 

ویڈیو 1:

https://www.youtube.com/watch?v=6dU69MkpfBE&t=139s

کیا  ان لوگوں کو  اپنی تاریخ، اپنا سماج  اور عورتوں کے حوالے سے ان کی  آج کی  صورت حال کا پتہ  نہیں ہے ۔

اسلام سے قبل دور جاہلیت میں عرب میں  عورت کی جو حالت تھی  بھارت اس سے کچھ مختلف نہ تھا۔  اور اس کا سلسلہ  بہت حد تک آج بھی جاری ہے۔ وراثت اور جائیداد  کی ملکیت تو بہت دور کی بات ہے، وہ اپنے شوہر کی موت  کے ساتھ ہی چتا میں جلا دی جاتی تھی۔ جسے ستی پرتھا کہتے ہیں۔ اب بھی کہیں نہ کہیں  سے ایسی  خبریں ملتی ہیں ۔ ’’عورت داسی بنائی جاتی ہے۔ مرد اس کا سوامی اور پتی دیو یعنی مالک اور معبود ہوتا ہے۔ وہ خدا کی طرح پوجا جاتا ہے۔ اس کو بچپن میں  باپ کی،  جوانی میں شوہر کی، اور بیوگی میں اولاد کی مملوکہ بن کر رہنا پڑتا ہے۔  شادی کے سخت قوانین ہیں۔   وہ اپنی مرضی ا ور پسند کے بغیر مرد کے حوالے کی جاتی ہے۔ اور زندگی کے آخری سانس تک اس کی ملکیت سے نہیں نکل سکتی ۔اس کو یہودیوں اور  اور یو نانیوں کی ہی طرح  گناہ اور اخلاقی اور روحانی پستی کا مجسمہ، اس کا  سمبل  سمجھا جاتا ہے۔ اور  اس کی مستقل شخصیت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا جا تا ہے۔ دوسری طرف  اسے جنسی ہوس کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔  اسے اس طرح اعصاب پر سوار کیا جاتا ہے۔ کہ بالاخر یہ قوموں کو لے ڈوبتی ہے۔  یہ  لنگ اور یونی   (یعنی مرد و عورت کے  جنسی اعضا ء)کی پوجا ، مندروں میں برہنہ اور جوڑواں مجسمے،  دیوداسیاں،  Relegious Prostitutes،  دریاوں کے ادھ ننگے اشنان   اسی عریانی، فحاشی کی باقیات ہیں  جو  قدیم سے ایران، بابل، یونان اور روم کی طرح  یہاں بھی پھیلی  اور ہندو  قوم کو صدیوں کے لئے تنزل اور انحطاط میں پھینک گئی۔‘‘   (پردہ، از سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ)

 مسلم حکمراں  جب اس ملک میں     آئے تو انھوں نے اسلام کی دعوت و تبلیغ میں  چند ایک کو چھوڑ کر کسی نے کوئی توجہ نہیں کی۔   ان کے  سماجی  اور خاندانی نظام  کو بھی نہیں چھیڑا،   ان کی ذات پات، اور نسلی برتری اور کمتری کے نظام  کو بھی نہیں چھیڑا۔ وہ صرف حکومت کے لئے آئے تھے۔   لیکن   آج اگر بھارت میں 225   ملین، پاکستان میں 221 ملین اور بنگلہ دیش میں 165 ملین   مسلمان  ہیں تو      اس میں زیادہ  تر   پرانے دھرم کو ہی  چھوڑ کر    آئے ہیں۔    اور یہ صرف بھارت میں نہیں  ساری دنیا میں ہوا۔  محمد رسول اللہ ﷺ تو اکیلے تھے، نبی مبعوث کیے گئے اور آج ان کی تعداد پوری دنیا میں 1.9  بلین ہے یعنی تقریباً 2  بلین ہے۔  البتہ بھارت میں اور دیگر جگہوں میں  فرق یہ ہے کہ  زیادہ تر علاقوں میں جہاں مسلم گئے اور اپنی حکومتیں قائم کیں، اس ملک کی اکثریت نے اسلام قبول کر لیا۔  لیکن  ہندوستان میں ایسا  نہیں ہوا۔  ہندوستان میں  بڑے پیمانے پر  اسلام کی دعوت نہیں دی گئی۔ حکمراں جو اسلام لے کر آئے   تھے ،وہ پہلے ہی  عجمی ملاوٹوں سے بھرا تھا۔ وہ خالص  اسلام نہیں تھا۔  البتہ  علمائے حق،عرب تا جروں ،   اور بعض صوفیا ء کی کوششوں سے اسلام  کا پیغام اورہدایت کی روشنی پھیلی اور جہاں جہاں پھیلی وہاں اسے منور کرتی چلی گئی۔  آج کے بھارت میں جب کہ مسلم ایک اقلیت کی حیثیت سے اکثریتی طبقہ کے  ہندتو کے دہشت میں زندگی گزار رہے ہیں، ان پر یہ مضحکہ خیز الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ لوگ ہندوں کو زبردستی مسلمان بنا رہے ہیں۔ حالانکہ انھوں نے اپنی حکمرانی اور اپنے دور عروج میں  بھی کبھی ایسا نہیں کیا ۔  بڑے سے بڑے مخالفین نے بھی ان پر کبھی ایسا الزام نہیں لگایا۔ اسلام واضح طور پر  انسان کی ذاتی زندگی  میں مذہبی آزادی دیتا ہے۔ قرآن نے صاف طور پر کہا ہے کہ ’’ لا اکراہ فی الدین۔‘‘  یعنی دین میں کوئی جبر نہیں ہے۔

البتہ یہ بات درست ہے کہ   ہندو معاشرہ پر  اسلام کے گہرے اثرات پڑے ہیں۔  جو لوگ اسلام میں نہیں  آئے،  ان کی  بھی ایک بڑی تعداد اسلامی تہذیب و ثقافت سے  متاثر ہوئی۔  ان کا سماج بدلا، ان کے خاندانی نطام  میں  تبدیلیاں  آئیں۔ شرم و حیا جو اسلامی  تہذیب کی نمایاں خصوصیات ہیں،ان کے معاشرہ میں    آئیں۔ حجاب  میں سروں پر دوپٹہ عام ہوا۔  آج بھی اگر   آپ راجستھان اور گجرات  کے کسی  گاوں میں  چلے جائیں، وہاں عورتیں اجنبی کے سامنے چہرہ ڈھک کر ہی    آئیں گی۔  وہ اپنی ساڑھی سے گھونگھٹ نکال کر  چہرہ ڈھانپ لیں گی ۔ پبلک میں بھی  ان کی گھونگھٹ نکلی ہوتی ہیں۔ ان کا چہرہ چھپا ہوتا ہے۔ تاریخ نویس    تاراچند نے اپنی کتاب، بھارتی ثقافت  پر اسلام  کے اثرات ( Influence of Islam on Indian Culture) , میں اسلام کا ، ہندو تہذیب ، سماج اور ثقافت پر پڑنے والے  اثرات کا گہرائی سے جائزہ لیا ہے۔

جب یہاں انگریز  آئے اور   1857 کی جنگ آزادی ناکام ہوئی  اور اس کے بعد جب ہندوستان مکمل طور پر انگریزوں کی  غلامی میں  آگیا ،   تو اس نےمسلمانوں اور ہندوں کے اپنے پرانے نظام تعلیم کو ختم کر کے  نیا نظام تعلیم  رائج کیا ۔ اس کے بعد   دل بدل گئے اور مغربی تہذیب       کے اثرات  گہرے ہوتے چلے گئے۔  اکبر الہٰ بادی نے اس زمانہ میں ہی کہ دیا تھا کہ  ’’دل بدل جائیں گے تعلیم بدل جانے سے‘‘۔ اور  اس کے اثرات یہ پڑے کہ اسی شاعر  نے کہا  کہ:

 بے پردہ کل جو آئیں نظر چند بیبیاں   

اکبرؔ زمیں میں غیرت قومی سے گڑ گیا

پوچھا جو میں نے آپ کا پردہ وہ کیا ہوا 

کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کے پڑ گیا

جس نے مغربی تعلیم سے  سب سے زیادہ استفادہ کیا،   یعنی ہندو قوم ، تواس پر مغربی تہذیب کے سب سے زیادہ اثرات پڑے۔ مسلمانوں  کی ایک بڑی  تعداد نے اپنے بچوں  کو اس سے بچایا۔ صوفی ہوں، سلفی ہوں، اہل حدیث ہوں، دیوبندی ہوں، یا بریلوی ہوں،  ان تمام لوگوں نے  اپنے بچوں اور آیندہ آنے والی نسلوں کو بچانے کی کوشش کی۔ اس  کے لئے یہ تمام مسالک کے علماء  انتہائی قابل احترام اور   باعث مبارکباد ہیں ۔

 آزادی کے بعد کا سیکولر بھارت   مغرب زدہ تھا۔ بہت بری طرح سے  ذہنی غلامی میں مبتلا تھا۔ اس نے اپنے پرانے آقا کا  ہی  سیاسی، تعلیمی ،  معاشی اور اخلاقی نظام اپنایا اور تباہی کے گڑھے میں گرتا چلا گیا۔  بالی ووڈ، ہالی ووڈ کی نقل میں  بہت آگے گیا۔ فحاشی اور عریانیت کے ذریعہ سے ہی فلمیں  ہٹ ہونے لگیں۔ مادہ پرستی نے سوسائٹی کو جکڑ لیا۔ اور عورت کی زندگی روز برز اجیرن بنتی چلی گئی ۔ مغرب کی ہر  غلط ، بری اور گندی چیزوں کو  پلکوں پر بٹھایا گیا، اور سروں پر چڑھایا گیا۔  اور ہندو تہذیب  اور سماج سے بھی ہر  غلط رسم و طریقہ کو  ریاست کی سرپرستی ملی۔  دستور میں لکھے گئےخوبصورت الفاظ اور بڑے آئیڈیلز کے باوجود   جہیز    اور تلک کی لعنت،  ورن ویوستھا، چھوت چھات،   ذات پات   کو  بڑھاوا ہی ملا۔  اور سوسائٹی جس میں عدل و مُساوات  کی پہلے ہی بہت قلت تھی۔ انگریزوں کے جانے کے بعد  صورت حال  اور بھی  دیگر گوں ہو  گئی۔

آج کے بھارت کا  حال یہ ہے کہ  جہیز نہ لانے  یا کم لانے کی وجہ سے عورتیں اپنے  سسرال والوں یا شوہر کے ہاتھوں قتل کر دی جاتی ہیں۔ یا تنگ آکر خودکُشی کر لیتی ہیں۔ اپنے آپ کو آگ میں   جلا لیتی ہیں۔ انڈین پولیس کی رپورٹ کے مطابق؛ 1996 میں ہر سال  2,500 دلہن  کےجلنے کے واقعات ہوئے جو 2011 میں  8,331 تک پہنچ گئے۔  اس کا  مطلب یہ تھا   کہ بھارت میں ہر 90منٹ   میں ایک دلہن جل  جاتی ہے۔میڈیا میں رپورٹنگ کے باعث جب بھارت کی دنیا میں بدنامی ہونے  لگی ،تو میڈیا رپورٹنگ بہت کم کر دی گئی اور خبروں کو دبا دیا گیا۔ پولیس میں بھی ایسی اموات کی رپورٹنگ بہت کم ہوتی ہے۔  

اسلام سے قبل  عرب کے دور جاہلیت میں  بچیوں کو پیدا  ہونے  کے بعد ان کے والدین انھیں زندہ دفن کر دیتے تھے۔ اس پر اللہ نے قرآن میں انھیں سخت  وارننگ دی  ہے۔ اب ٹیکنالوجی سے پیٹ میں بچہ ہونے  کے   چند ماہ میں معلوم ہو جاتا ہے کہ اس کے پیٹ میں بیٹا ہے یا بیٹی۔  بھارت کی عورتیں  اسی عرب جاہلیت  کے راستہ پر چل کر   پیدائش سے قبل   ہی لڑکی کااسقاط   کر الیتی ہیں۔    مغربی دنیا میں   بھی     اسقاط حمل ہو رہے ہیں۔لیکن صنف مخصوص اور     بچیوں کا    اسقاط صرف  بھارت  میں ہی  ہو رہا ہے۔بعض ریاستوں خصوصا مہاراشٹراور  ہریانہ میں لڑکیوں کی تعداد خطرناک حد تک کم ہو گئی ہے۔ اندازہ  لگایا جا رہا ہے کہ2030   تک   6.8    ملین بچیاں، بچوں کے مقابلہ میں کم پیدا ہوں گی۔  1970    سے  جب ٹیسٹ کے ذریعہ    پیٹ میں ہی  جنس معلوم کرنے کا طریقہ معلوم ہوا ہے ، بھارت  میں  اب تک 63 ملین بچیوں کا اسقاط ہو چکا ہے۔ یعنی 6 کروڑ3 لاکھ بچیاں پیدا ہونے سے قبل ہی  قتل کی جا چکی ہیں۔

لڑکیوں کی تعداد کم ہونے یعنی گلشن میں پھول نہ ہونے کے کیا اثرات ہوں گے ، خاندان، پر سماج پر اور آیندہ نسل پر اس کا بخوبی اندازہ لگایا  جا سکتا ہے۔کسی  آبادی کوبرقرار رکھنے کے لئے  آبادی کی سالانہ ترقی کی شرح 2.4 % چاہئے  جب کہ بھارت  میں یہ گھٹ کر 1%سے کم ہو گئی ہے۔ اس کے باوجود وہاں ’’خاندانی منصوبہ بندی ‘‘ یعنی ضبط ولادت پر خاصا زور ہے۔  یہ اپنی تباہی کا خود سامان ہے۔

ویڈیو 2

https://www.youtube.com/watch?v=CRuXF622uLs&t=67s

اب گھریلو تشدد  ) (Domestic Violence   کی صورت حال  کو لیتے ہیں۔گھریلو تشدد کے حوالے سے بھارت کے نیشنل فیملی اینڈ ہیلتھ سروے  اور دیگر کئی  سروے رپورٹس کے مطابق   2005 میں    گھریلو تشدد   میں  33.5 %عورتیں مردوں کے  ہاتھوں پٹی ہیں ۔

عورت کے ساتھ ہونے والے زنا  بالجبر اور  جنسی تشدد کی  رپورٹنگ بھی بہت کم ہوتی ہے۔ کیونکہ اس کے ساتھ جو  بدنامی کا پہلو ہے وہ    لڑکیوں اور عورتوں  کو اور  اس کے خاندان کے لوگوں کو خاموش  رہنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ ایسا  بھی ہوتا ہے، اور بڑی تعداد میں ایسا ہوتا ہے کہ پولیس ایسے کیسیز کو رپورٹ کرنے سے انکار کر دیتی  ہے اور متاثرہ    فیملی  کو خاموش  کر دیتی ہے۔  اس کے باوجود  2019 میں  32,033     کیسیز رپورٹ ہوئیں۔ اور  2018   میں 33,356  کیسیز رپورٹ ہوئیں ۔ جس میں ایک بڑی تعداد  دلت اور آدی باسیوں کی لڑکیوں اور عورتوں کی ہے۔ یعنی کمزور ذات اور سوسائٹی کی  عورتوں کے ساتھ سب سے زیادہ زیادتی کی جاتی ہے۔ اور اس میں اکثر  ملوث اعلیٰ ذات کے ہندو مرد ہوتے ہیں۔  اکثر کیسیز میں  ریپ کر کے قتل بھی کر دیا  جاتا ہے۔

 جب یہ مقدمات  عدالتوں میں جاتے ہیں، تو  انصاف کی امید نہ ہونے کی برابر  ہوتی ہے،خصوصاً   جب دلت ، آدی باسیوں اور  مسلمانوں کا معاملہ ہو۔  اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جو مظلوم ہوتا ہے اسے ہی پھنسا دیا جاتا ہے۔  زیادہ تر کیسیز میں  ظالم اعلیٰ نسل کے ہندو ، اور حکمراں پارٹی یا اس سے قربت  رکھنے والے لوگ  ہوتے ہیں۔

گزشتہ چند  برسوں  میں  جو10   ہائی پروفائیل ریپ کیسیز  ہیں،  وہ ہیں : سوزیٹ جارڈن ریپ کیس، نربھیا ریپ کیس،  شکتی ملز ریپ کیس،  جیشا ریپ کیس،  فرانکو  ملاکل ریپ کیس،  ہاتھرس گینگ ریپ کیس ، اُنَّاوُ  ریپ کیس،  2019حیدرآباد ریپ کیس ، اور بدایوں ریپ کیس۔     

نر بھیا ریپ کیس    بھارت  کےمرکز دہلی میں ہوا۔  پبلک بس میں ایک لڑکی پر چھ لوگوں نے حملہ کیا، اس سے ریپ کیا، اور لوہے کے چھڑ  سے مار  مار کر ہلاک کر دیا۔

ہاتھرس گینگ ریپ میں   گزشتہ  سال ستمبر میں ایک19 سالہ دلت لڑکی کا اعلیٰ ذات کے ہندوں نے ریپ کیا۔ اس کے جسم پر انتہائی تشدد کیا گیا، اس کی گردن پر اسی کا دوپٹہ باندھ کر کھینچا گیا۔ ریڑھ کی ہڈی توڑ کر اسے مفلوج کر دیا۔  اس کی زبان کاٹ دی گئی  اور اس کے بعد  جہاں سے وہ اٹھائی گئی تھی وہیں کھیت میں اسے پھینک دیا۔ یو پی کی پولیس  اور حکومت نے مجرموں  کا ساتھ دیا۔ دو ہفتوں کے بعد لڑکی  کی موت  دہلی کے ایک اسپتال میں ہو گئی۔ اس کی لاش کو  بھی  اس کی فیملی کو نہیں دیا گیا۔  اس کی ماں چیختی چلاتی رہ گئی۔ رات کے اندھیرے میں پولیس نے بغیر  کسی فیملی ممبر کے شرکت کے  اس کا انتم سنسکار کر دیا۔  جس طرح ریپ کرنے والوں نے اسے  راکھ سمجھ کر پھینک دیا تھا، پولیس اور  انتظامیہ نے  بھی اسے آگ کے حوالے کر کے  راکھ  بنا  کر سارے ثبوت مٹا دیے۔  اس کے بعد مجرموں کے تحفظ میں پولیس لگ گئی۔ مجرمین اعلیٰ ذات کے  ٹھاکر    فیملی کے   چار   افراد تھے ( یوپی کے وزیر  اعلیٰ یوگی بھی ٹھاکر ہیں)، جسے بچانے کے لئے پولیس، یو پی حکومت اور  مرکزی حکومت کے تحت   آنے والی  سی بی آئی،یعنی سنٹرل بیورو آف انسویٹیگیشن حرکت میں آئی اور آخر کا ر مجرموں کو بچا لیا۔  

بھارت شاید دنیا کا واحد ملک ہے جس میں  ہر ریپ کے بعد پولیس اور انتظامیہ مجرم کو تحفط فراہم کرنے کی  ترکیب میں  جڑ جاتی ہے۔  مجھے حیرت اس بات پر ہے کہ عورتوں پر تشدد کے حوالے سے اس قدر خراب  ریکارڈ  رکھنے والے ملک  کے  دانشور حضرات  بھی افغان میں عورتوں کے حقوق کو لے کر  چنتا جن ہیں  ۔  یہ مذاق  نہیں تو کیا ہے، یہ  شرمناک بات ہے۔

 کیا آپ کو معلوم ہے کہ افغانستان سے روس  کے جانے کے بعد جب امریکا نے وہاں انارکی پیدا کی۔ خانہ جنگی  کی کیفیت ہو گئی،  تو  اس صورت حال میں عورتوں پر جنسی حملے شروع ہوئے  تھے، اسے روکنے کے لئے ہی  دینی علما ء اور طلباء کھڑے ہوئے تھے اور وہی  تحریک  طالبان کے نام سے منظم ہوئے تھے۔ اور یہی وہ طالبان ہیں جنھوں نے اپنے خلاف جمع ہونے والی  دنیا  بھر کی فوج کو شکشت دی ہے۔

کیا آپ کو معلوم ہے کہ  طالبان کے گزشتہ   5سالہ حکومت میں  کوئی ریپ   نہیں ہوا تھا۔ وہاں کوئی عورت کو میلی آنکھ سے دیکھنے کا جرئت نہیں کر سکتا۔  طالبان نے   عورتوں کو وہ تمام حقوق دیے ہیں جو اسلا م نے دیے ہیں۔ وہ  اپنا   آزاد مستقل وجود بھی رکھتی ہے  اور وہ مردوں سے، ماں کی حیثیت سے،  بیٹی کی حیثیت سے، بہن کی حیثیت سے، اور بیوی کی حیثیت سے   تمام حقوق حاصل کرتی ہے۔ وہ جائداد رکھ سکتی ہے وہ کاروبار کر سکتی ہے۔ اس کا وراثت میں حصہ ہوتا ہے۔ افغانستان میں  لڑکی  یا اس کے والدین کو کوئی تلک یا جہیز نہیں دینا  پڑتا ،  شادی میں اس کا کچھ بھی خرچ نہیں ہوتا ۔  لڑکا مہر کی رقم دیتا ہے، اپنی حیثیت کے مطابق اور اچھا رقم دیتا ہے۔ طالبان کی نئی حکومت نے  تمام  اسپتالوں اور پرائیویٹ اداروں میں عورتوں کو  اپنے کام پر بنے رہنے کی اجازت دی ہے۔ لڑکیوں کے علیحدہ  اسکول چل رہے ہیں۔

 ایک افغان اپنی بیوی اور بچوں اور بوڑھے والدین  کی کفالت اور ان کی حفاظت میں اپنی پوری زندگی لگا دیتا ہے ۔ اسلام نے عورتوں کو حقوق زیادہ دیے ہیں اور ذمہ داریاں  کم دی ہیں۔ مردوں کی ذمہ داریاں بہت زیادہ ہیں حقوق کم ہیں۔  اسلام نےعورتوں کا روحانی مقام  ومرتبہ بھی بلند کیاہے۔ ماں کے قدموں تلے جنت رکھ دی ہے۔

 سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آیا اور کہا:  (اللہ کے رسولﷺ! میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟ تو آپ  صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: تمہاری ماں۔ اس نے کہا: ان کے بعد؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: تمہاری ماں۔ اس نے کہا: ان کے بعد؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:  تمہاری ماں۔ اس نے کہا: ان کے بعد؟  تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: تمہارا باپ۔  (بخاری اور مسلم)

  اللہ نے  انسان کی اپنی تخلیق کے عمل میں عورت کو شامل کیا ہے۔  اس کے بطن سے پیدائش عمل میں آتی ہے۔  عورتوں کو  بچوں کی نگہداشت، پرورش، تعلیم وتربیت کی سب سے اہم ذمہ داری سونپی  گئی ہے۔ اسے معاش کی ذمہ داری نہیں دی گئی ہے، کیونکہ یہ بھاری ذمہ داری ہے۔ اس کو قیادت کی ذمہ داری نہیں دی گئی ہے کیونکہ یہ بہت سخت ذمہ داری  کا کام  ہے۔  اسے گواہی کی ذمہ داری بھی  آدھی کر کے کم  کر دی گئی  ہے۔ کیونکہ گواہی دینا خطرناک   کام ہے اس میں جان جانے کی نوبت بھی آجاتی ہے۔ عورت بہت قیمتی  شئے ہے۔ اس لئے اسے ڈھانپ کر، حجاب اور نقاب  میں باہر نکالا جاتا ہے۔ جس طرح ہیرے جواہرات، اور سونے کے قیمتی زیورات  کو پیک رکھا جاتا ہے، اسے کور کیا جاتا ہے۔

ہر قیمتی اور نفع بخش پھل مضبوط چھلکوں کے اندر ہوتا ہے۔  اگر انار کے گرد مضبوط    غلاف  نہ ہو ، اور کیلا بغیر   چھلکے کا  بازار میں ہو تو کوئی اسے لینا پسند نہیں کرے گا۔ عورت اور مرد  کی ذمہ داریاں الگ ہیں۔ دونوں کے حقوق اور فرائض الگ ہیں۔  چنانچہ دونوں کا نظام تعلیم اور دونوں کی اسکو لنگ الگ ہوگی اور ہونی چاہئے۔ طالبان جو افغانستان میں کر رہے ہیں وہ عین اسلام کے مطابق کر رہے ہیں۔ مغرب اور مغرب زدہ لوگوں، اور بھارتی  بدھی جیویوں کی خواہشات کے مطابق  وہ   اپنا نظام نہیں بنائیں گے ،اور نہ  انھیں بنانا چاہئے۔  ہم اپنے تمام مسلم بھائیوں سے گزارش کریں گے کہ وہ  امریکی ،مغربی، اور بھارتی  پراپگنڈہ کا شکار نہ  ہوں۔  ہم اپنے ان  غیر مسلم بھائیوں سے  بھی کہیں گے  کہ جنھوں نے مسلم خاندان کا نظام قریب سے دیکھا ہے،  وہ اسلام کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ جب اسلام سمجھ جائیں گے تو طالبان کو سمجھنے میں آسانی پیدا ہوگی۔ اور اسی میں سب کی بھلائی ہے۔

 

Your Comment