بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم ما شاء الله اتوار 29 / مئی / 2022,

Instagram

تحریک اسلامی اور مسلمان (1): بھارت کے مسلمان اور مسلم قوم پرستی کی سیاست

2022 Jan 14

 تحریک اسلامی اور مسلمان (1):  بھارت  کے مسلمان اور مسلم  قوم پرستی کی سیاست

جاوید انور

سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ نے تقسیم ہند سے قبل  مدراس میں 26 اپریل  1947کو جماعت اسلامی کے اجتماع میں  اپنے آخری خطبہ  میں مسلمانوں کو آئندہ  لائحہ عمل کے لئے جو چار مشورے دیے تھے، ان میں سب سے پہلا مشورہ  ’’مسلم قوم پرستی کی سیاست‘‘  سے مکمل اجتناب کا تھا۔ انھوں نے اس کے مقابل مسلمانوں کو  ’’اسلامی سیاست‘‘ کے لیے کہا تھا۔  لیکن ایسا لگتا ہے کہ آج 75 سالوں میں بھی   بھارت کے مسلمان، مسلم قوم پرستی اور اسلام کی سیاست کے فرق کوبھی معلوم نہ کر سکے۔ اسے برتنا تو بہت دور کی بات ہے۔

مسلم  قوم پرستانہ سیاست کو جاری رکھنے کے انجام بد کو  سید ابو الاعلی مودودیؒ نے اسی وقت بھانپ لیا تھا۔ اور اب بھارت میں خود مسلمانوں کے وجود کی بقا کا مسئلہ کھڑا ہو گیا ہے۔ ہری دوار کے دھرم سنسد  میں مسلمانوں کے قتل عام کا کھلم کھلا اعلان  اچانک چند سالوں میں نہیں ہوا ہے۔ بلکہ اس کی بنیاد 1925میں پڑ گئی تھی.۔  ساورکر  کے ہم خیال شروع سے کانگریس پارٹی میں شامل تھے۔ اور کانگریس پارٹی  وہی کام خاموشی سے کرتی رہی ہے۔ اس نے مسلمانان ہند کا معاشی قتل عام کیا، تعلیمی قتل عام کیا  اور سماجی قتل عام کیا۔ ان کی معاشی، تعلیمی، اور سماجی حیثیت کو شودر سے بھی نیچے کردیا۔ اب اسی کمزور قوم کو بھارتیہ جنتا  پارٹی  کے دور میں جسمانی طور پر بھی ختم کرنے کا  اعلان ہو رہا ہے۔

مولانا مودودیؒ نے  اپنی تقریر میں واضح طور پر کہ دیا تھا کہ نئے  ہندوستان میں ’’اب آپ کو تین راستوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا پڑے گا۔  ایک یہ کہ’’نیشنلشٹ‘‘ مسلمانوں کی پالیسی قبول کرکے ہندو قومیت میں جذب ہونے پر تیار ہو جائیں۔ دوسرے یہ کہ ’’مسلم  قوم پرستی‘‘ کی موجودہ روش پر بدستور چلتے رہیں، یہاں تک کہ مٹ جائیں۔ تیسرے یہ کہ قوم پرستی اور اس کے طور طریقوں کو اورا س کے دعوؤں اور مطالبوں سے توبہ کرکے اسلام کی رہنمائی  قبول کر لیں، جس کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان اپنی قومی اغراض کے لیے سعی اور جہد کرنے کے بجائے اپنی تمام کوششوں کو صرف اسلام کی اصولی دعوت پر مرکوز کر دیں اور من حیث القوم اپنے اخلاق، اعمال اور اجتماعی زندگی میں اس کی شہادت دیں جس سے دنیا یقین کر سکے کہ فی الواقع یہ وہ قوم ہے جو اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ محض دنیا کے اصلاح کے لیے جینے والی ہے اور درحقیقت جن اصولوں کو یہ پیش کر رہی ہے وہ انسانی زندگی کو انفرادی اور اجتماعی طور پر نہایت اعلیٰ و ارفع اور اصلح بنا دینے والے ہیں۔‘‘

’’یہی آخری راہ مسلمانوں کے لیے پہلے بھی راہ نجات تھی اور اب بھی اسی میں ان کے لئے راہ نجات ہے۔ میں کئی سال سے ان کو اسی طرف بلا رہا ہوں۔ اگر یہ قوم پرستانہ سیاست کی راہ  اختیار کرنے کے بجائے اِس راہ کو اختیار کرتے، اور جس طرح پچھلے دس سال میں انھوں نے  اپنی پوری قومی طاقت کو اُس راہ پر لگایا ہے اسی طرح کہیں اِس راہ پر لگایا ہوتا  تو آج ہندوستان کی سیاست کا نقشہ بالکل بدلا ہوا ہوتا۔ اور دو چھوٹے چھوٹے پاکستانوں کی جگہ سارے ہندوستان کے پاکستان بن جانے کے امکانات ان کی آنکھوں کے سامنے ہوتے۔ لیکن اس وقت  میری دعوت انہیں دشمن کی دعوت  یا ایک دیوانے دوست کی دعوت محسوس ہوئی۔ اب واقعات گھیر کر ”ناچار مسلمان شو“ کے مقام پر  خود کھینچ  لائے ہیں۔ اب ان کے لیے  زندگی کی راہ صرف ایک رہ گئی ہے اور وہ اسلام کی۔۔۔اصلی اور حقیقی اور مخلصانہ اسلام کی راہ ہے۔ دوسری راہیں زندگی کی نہیں بلکہ خود کشی یا سزائے موت یا طبعی وفات کی راہیں ہیں۔۔۔۔۔۔‘‘  (تحریک  آزادی ہند اور مسلمان جلد دوم مضمون ’’تقسیم سے قبل  ہندوستان کے مسلمانوں کو آخری مشورہ‘‘)

لیکن بھارت کے مسلمان ’’ناچار مسلمان شو‘‘  بھی نہ بن سکے۔ اور حیرت انگیز طور پر انہی پہلی دو راہوں پر چلتے رہے جو خود کشی یا سزائے موت یا طبعی وفات کی راہیں ہیں۔ اس سفر میں انہیں علماء کا ساتھ اور ان کی قیادت بھی ملتی رہی ہے۔ علماء کا ایک طبقہ کانگریس کے لیے مسلمانوں کے ووٹ کو ہموار کرنے میں لگا رہا، جس نے گاندھی، نہرو، اور دستور ہند کو ہی اپنا خدا، اپنا رسول، اور اپنی کتاب بنا لیا۔ مسلم قوم پرستی کی سیاست بھی علماء کی طرف سے آزادی ہند میں اپنے کردار کی دہائیاں دیتے ہوئے آگے بڑھی ہے۔ ان کے نزدیک بھی سب سے بڑی کتاب  امبیڈکر کا دیا ہوا  سمودھان  (دستور) ہی ہے۔

بھارت کے علماءاور دینی  اور سیاسی جماعتوں نے کبھی یہ گوارا ہی نہیں کیا کہ جس دین کے وہ دعویدار ہیں، معلوم کریں کہ کیا اس میں سیاست کی رہنمائی نہیں ہے۔ کیا قرآن و سنت والا دین اسلام جو ایک مکمل نظام حیات ہے؛ سیاست، ریاست، اور حکومت سے متعلق کوئی ہدایت نہیں دیتا ہے؟ کیا شریعت اسلامی، سیاسیات سے لاتعلق ہے؟ کیا دین اسلام، مغربی سیاسی دین؛ نیشنلزم، سیکولرزم اور لبرل ڈیموکریسی کے مقابل اپنا کوئی نظام نہیں دیتا ہے۔کیا  انسان کا بنایا ہوا سمودھان اتنا اہم ہے کہ ایک مسلم اس کے سامنے  آتم سمرپن کر لے۔

E-Mail: AsSeerah@AsSeerah.com

Twitter: https://twitter.com/AsSeerah

YouTube: 

https://www.youtube.com/AsSeerah

English Blog: 

https://www.as-seerah.com/

Urdu Blog: 

http://www.raastanews.com/

Subscribe Weekly E-Newsletter:

AsSeerah+subscribe@groups.io

 

Your Comment