بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم ما شاء الله بدھ 30 / نومبر / 2022,

Instagram

تحریک اسلامی اور مسلمان (2): قوم پرستی اور اسلامی سیا ست کا فرق

2022 Jan 19

تحریک اسلامی اور مسلمان (2): قوم پرستی  اور اسلامی سیا ست کا فرق

جاوید انور

قوم پرستی لینے کی سیاست ہے، اور اسلام دینے کی سیاست۔  ایک  لینے والا ہاتھ ہے، دوسرا دینے والا ہاتھ۔

قوم پرستی کی سیاست حقوق کی سیاست ہے۔اسلام کی سیاست  فرائض کی سیاست ہے۔

 قوم پرستی کی سیاست مطالبات کی سیاست ہے۔اسلام کی سیاست  ہدایات کی سیاست ہے۔

 قوم پرستی کی سیاست تفریق کی سیاست ہے۔اسلام کی سیاست  اتحاد کی سیاست ہے۔

قوم پرستی کی سیاست کے نتیجے میں اکثریت، اقلیت کو کچل دیتی ہے۔اسلام کی نظریاتی سیاست کے نتیجہ میں نظریاتی اقلیت  قومی اکثریت پر غالب آجاتی ہے۔ (بارہا ایسا ہوا ہے کہ ایک قلیل گروہ،اللہ کے اذن سے ایک بڑے گروہ پر غالب آگیا۔ سورۃ البقرہ آیت249)

قوم پرستی کی سیاست  ذاتی اور قومی مفاد کی سیاست ہے۔اسلامی سیاست اجتماعی اصلاح اور فلاح کی سیاست ہے۔

قوم پرستی کا سیاسی نظریہ مغربی نظریہ ہے۔اسلام کا سیاسی عقیدہ  اللہ رب العالمین کا عطا کردہ ہے۔

قوم پرستی مفادات کی جنگ ہے۔اسلام کا پیغام سب تک پہنچانا ایک فریضہ ہے، جو ہر امتی کا فرض ہے، یہ ذاتی اور قومی مفادات کو قربان کرنے کی سیاست ہے۔

قوم پرستی کا لازمی نتیجہ دو قوموں یا زیادہ قوموں کے درمیان نفرت اور عداوت ہے۔اسلام کے توحید کا لازمی نتیجہ انسانوں کے مابین محبت، ہمدردی اور غم گساری ہے۔

قوم پرستی اپنی قوم کو احساس برتری اور تفاخر سکھاتی ہے۔اسلام تواضع اور شکر گزاری کا مزاج پیدا کرتا ہے۔

قوم پرستی کی سیاست قومی خواہشات کی وکالت میں انصاف اوراخلاق کے تمام  حدود پھلانگتی ہے۔ اسلام کی سیاست  اللہ اور اس کے رسول اللہﷺ  کے دین و شریعت کی وکالت ہے۔ اس میں عدل و اخلاق اورانسانی مساوات کاخیال رکھا جاتا ہے۔

قومیت کی سیاست میں تمام تر اخلاقی معیارات قومیت کے تابع ہو جاتے ہیں۔ یعنی جو کچھ قومی مفاد اور قومی خواہشات کے مطابق ہے، وہی ”اخلاق“ ہے خواہ  وہ جھو ٹ ہو، فریب ہو،  خیانت ہو،  فراڈ ہو، ظلم ہو،  سنگدلی ہو  یابے رحمی ہو۔اسلامی سیاست میں تمام اخلاقی معیارات  احکام ربانی کے تابع ہوتے ہیں۔

قوم پرستی کی سیاست اپنی قوم کو مخاطب کرتی ہے، اسلام کی سیاست انسانیت کو خطاب کرتی ہے اور قومی خودغرضیوں کو توڑ کر عالمگیر انصاف قائم کرنا چاہتی ہے۔

اسلامی سیاست کا تقاضا یہ ہے کہ یہاں ہر شخص حقوق دینے  کے فرائض نبھائے، اس طرح کسی کا کوئی حق مارا نہیں جا سکتا۔ حقوق دینے  کے فرائض نبھانے والے کا حق جنت میں محفوظ ہے ۔وہ اسے حاصل کرنے کے لئے شہادت کی موت کا متمنی ہوتا ہے نہ کہ مراعت یافتہ زندگی کا۔

قوم پرستی کے لیے سیکولرزم اور جمہوریت بھی لازم ہے۔  سیکولرزم اسے تمام اخلاقی پابندیوں سے آزاد کرتی ہے اور جمہوریت کے ذریعہ اکثریت کی ایک منظم اقلیتی  حکومت، اقلیت کو مٹانے میں لگ جاتی ہے۔نیشنلزم،  سیکولرزم اور ڈیموکریسی یہ تینوں باطل نظریات ہیں۔ یہ  جدید طاغوتی نظام ہے۔ اسلامی سیاست درحقیقت ان باطل نظریات کا خاتمہ چاہتی ہے ۔

وقل جاء الحق وزہق الباطل  إن الباطل کان زہوقا  (اور کہدو کہ حق آیا اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل کو مٹنا ہی تھا، سورۃ  بنی اسرائیل آیت

81)

E-Mail: AsSeerah@AsSeerah.com

Twitter: https://twitter.com/AsSeerah

YouTube: 

https://www.youtube.com/AsSeerah

English Blog: 

https://www.as-seerah.com/

Urdu Blog: 

http://www.raastanews.com/

Subscribe Weekly E-Newsletter:

AsSeerah+subscribe@groups.io

 

Muslima

Ma sha Allah

Muslimah

ماشاالله

Your Comment