بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم ما شاء الله جمعه 30 / ستمبر / 2022,

Instagram

تحریک اسلامی اورمسلمان (3) : سیکولرزم یا سچا دین

2022 Feb 02

 تحریک اسلامی اورمسلمان (3) : سیکولرزم یا سچا دین

جاوید انور

بھارت میں ہندوؤں کی ایک بڑی تعداد سیکولرزم کو چھوڑ کر ہندو دھرم کی طرف مراجعت کر رہی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ سیکولرزم نے انھیں کچھ نہیں دیا، انھیں ان کی مرضی کے خلاف  ادھرم (لامذہب) بنا دیا ہے۔ انھیں یقین ہو چکا ہے کہ سیکولرزم کے پاس ان کے لیے اب کچھ بھی نہیں ہے۔ سیکولرازم کے خلاف ہندوؤں کی جو جماعت آزادی ہند سے قبل سے متحرک تھی جیسے ہندو مہا سبھا  اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس۔ایس) وغیرہ،ان میں ہندو مذہب کے ساتھ ساتھ ہندو اور بھارتی قوم پرستی بھی شامل تھی۔ یعنی  یہ  جماعتیں مذہب کے مشرکانہ عقیدہ  کے ساتھ دوسرے مذاہب اور قوموں کے لیے نفرت کا عقیدہ بھی رکھتی تھیں۔ 

اس وقت دنیا کے دیگر ممالک میں دیگر مذاہب کے ماننے والوں کا بھی کم و بیش یہی رویہ ہے۔  بودھ دھرم کے ماننے والوں نے بھی مذہب اور قوم پرستی کے ملغوبے سے برما میں نفرت کی وہ فصل اگائی،جس سے روہنگیا مسلمانوں کا قتل عام ممکن ہوا۔  امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی بھی عیسائیت اور سفید فام نسل پرستی کے وصل کا نتیجہ تھی۔  امریکا میں چونکہ شہری حقوق کی تنطیمیں بہت متحرک ہیں، اس لیے وہ ایک قسم کے فطری انتہا پر جانے سے پہلے رک گئیں۔ تاہم اسے بھی ابھی ایک وقتی ٹھہراوُ یا ان قوتوں کی وقتی ناکامی ہی سمجھا جانا چاہیے  کیونکہ امریکا میں مذہبی قوتیں چرچوں میں مضبوط اور منظم ہو رہی ہیں۔ اس کی وجہ بھی بنیادی طور پر سیکولرازم سے نفرت ہے۔

سیکولرزم مغربی اصطلاح اور نظریہ (درحقیقت دیگر اقوام کے لیے یہودیوں کا ایجاد کردہ) ہے، جس کے معنی بغیر کسی اختلاف کے اردو زبان میں ”لا دینیت“ یا  ”لا مذہبیت“  کہہ سکتے ہیں۔ کوئی بھی لغت یا انسائیکلوپیٖڈیا اٹھا کر دیکھ لیں۔ اس سے مختلف معنی نہیں نکلے گا۔  یہ لادینیت، قومی، ریاستی اور عوامی زندگی اور معاملات سے ہے۔ اس کا نجی زندگی سے تعلق نہیں ہے۔  یعنی ذاتی عبادات کو چھوڑ کر زندگی  کے تمام معاملات میں دین اور شریعت کو علیحدہ رکھا جائے۔  سیکولرائزیشن ان تمام اعمال اور افعال کے ذریعہ کیا جاتا ہے، جس کے استعمال اور ترویج سے انسان اوراس کا معاشرہ عقیدہ   توحید، عقیدہ رسالت اور عقیدہ  آخرت سے مکمل  لاتعلق ہو کر آزاد ہو جائے۔  یعنی انسان کا خدا سے جو ’’ریگولر‘‘تعلق ہے، اسے کاٹ کر ’’سیکولر‘‘ بنا دیا جائے۔ سیکولرزم کا اصل مقصد اس دنیا  میں ربانی نظام کا خاتمہ اور شیطانی نظام کا قیام ہے۔ یعنی انسانی نظام زندگی کو شریعت کے دائرہ سے مکمل طور پر نکال کر انسان کی نفسی خواہشات کے دائرہ میں لایا جائے۔ انسائیکلوپیڈیا  بریٹا نیکا (مایکرو پیڈیا) میں سیکولرائزایشن کے نظریہ پر درج ہے کہ ’’جیسے جیسے معاشرے کا سیکولرائزیشن آگے بڑھتا ہے،  فرد کا عمل، زیادہ سے زیادہ اس کی اپنی  ’’پسند‘‘کے مطابق ہونے لگتا ہے۔‘‘۔  اور اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ جس ملک میں سیکولرازم کے ساتھ ساتھ جمہوریت بھی ہو  وہاں کی ’’اکثریت‘‘  کا عمل اس کی اپنی ’’پسند‘‘کے مطابق ہونے لگتا ہے۔(ج۔ا)

 انسائیکلوپیڈیا  بریٹا نیکا (مایکرو پیڈیا) میں  مزید درج ہے کہ ”مضبوط و منضبط ماقبل ماڈرن ادارے (Cohesive Pre-modern Institutions) سیکولرائزیشن کے نتیجہ میں ٹوٹ پھوٹ جاتے ہیں۔ سیکولرائزیشن کا دباوُ یہ ہے کہ  وہ معاشرہ میں فرد کے مقام کی ازسرنو  تعریف کرے۔ سیکولرائزیشن آزادانہ  الگ الگ قدروں (Pluralist)کو آگے بڑھاتا ہے، جو کسی  متحد سوسائٹی کے نظام کو از خود درہم برہم کر دیتا ہے۔ سیکولرائزیشن کے عمل کے ذریعے سوسائٹی جتنی ترقی کرتی جائے گی، ہر قدر سے بغاوت اتنی ہی عام ہوگی۔ ہر قدر بدل جائے گی، ہر امر، ہر خیال اور ہر عقیدے کو چیلنج کیا جائے گا۔ تصورات، آداب، اور عقاید کی ہر عمارت ڈھا دی جائے  گی‘‘۔

’’سیکولرزم کا خاصہ ہوتا ہے: صنعتی، تکنیکی، معاشی درجہ بندی کا مخالف اور حامل عدم سکون‘‘۔۔۔۔ 

’’سیکولرائزیشن ان کاموں کو کہتے ہیں جو تعقلی طور پر، غیر شخصیاتی، اور مفاداتی قدروں اور شاکلوں کے چاروں طرف منظم کیے جائیں۔، نہ کہ رسمی قدروں اور  روایتی قدروں اور شاکلوں کے چاروں طرف۔۔۔۔‘‘۔(حوالہ ’’عالم اسلام کی اخلاقی صورت حال‘‘ از اسرار عالم)

ماڈرن  اور سیکولر لوگوں کا یہ خیال ہے کہ  مذہب ہی اصل میں فساد کی جڑ ہے، ساری جنگیں اسی بنیاد پر ہوتی ہیں۔ اگر پبلک معاملات  سے مذہب کو بالکل نکال دیا جائے تو  مذہبی تفریق، اور بھید بھاوُ کا  انت ہوجائے گا۔ اور معاشرہ میں مذہبی تقسیم کا خاتمہ ہوگا۔   سیکولر لوگوں کا یہ  محض ایک واہمہ تھا,  اور اب بھی ایک مغالطہ ہے۔ پچھلی دو  جنگ عظیم کی بنیاد مذہب نہیں بلکہ قوم پرستی اور نسل پرستی تھی۔ آج بھی جہاں جہاں جنگیں ہو رہی ہیں، اور آزادی کی تحریکیں چل رہی ہیں وہ قبضہ(Occupation) کے ردعمل اور نتیجہ میں پیدا ہوئی ہیں۔ اصل مسئلہ مذہبی دہشت گردی نہیں بلکہ ریاستی قبضہ اور دہشت گردی (State occupation and terrorism) ہے۔ اوراصل حقیقت یہ ہے کہ مذہب کے اچھے اقدار کو لانے سے ہی معاشرہ کی بدامنی اور عدم برداشت پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

 بھارتی مسلمانوں کے سیاسی رہنما، دینی اور مذہبی پیشوا، اور دینی جماعتوں کے قائدین بھی  سیکولرزم کے اسی مغالطہ آمیز مفہوم کے فریب میں مبتلا ہیں کہ سیکولرزم سے فرقہ واریت کا خاتمہ ہوگا، اور مذہب کی بنیاد پر تفریق کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اور  اس طرح چونکہ اس وقت ہندوتوا کی قوتوں سے سب سے زیادہ نقصان مسلمانوں کو ہی  ہو رہا ہے، اس لیے وہ سیکولرزم کے سب سے بڑے داعی اور سب سے بڑے پرچارک بن گئے ہیں۔  ان کی کوشش یہ ہے کہ اکثریتی مذہبی گروہ کو ہندوتوا کی جانب جانے سے روکے اور انھیں سیکولرزم کی طرف واپس لے کر آئے۔ جیسے جیسے وہ یہ کو ششیں کر رہے ہیں، ویسے ویسے ہندوتوا کی شدت اور ان کی قوت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

دہلی کے گزشتہ انتخاب کے دوران ’’سیکولر‘‘ عام آدمی پارٹی(AAP) کے لیڈر آرویند کجریوال نے اپنے کو اسلام اور مسلمان کی ہر علامت سے دور رکھا تھا۔ حتیٰ کہ مخالف  بی جے پی  کے ذریعہ لائے گئے،سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف چل رہی مشہور تحریک، شاہین باغ دھرنے میں وہ ایک بار بھی نہیں گئے۔ ان کی انتخابی مہم کا آغاز روزانہ کناٹ پیلس کے ہنومان مندر میں جاکر پوجا  اور تلک لگا کرہوتا تھا۔  وہ بھارتیہ جنتا پارٹی سے زیادہ اپنے کو ہندو دھارمک ثابت کر نے میں لگے ہوئے تھے۔ اسی طرح  مغربی بنگال  کے گزشتہ صوبائی انتخاب  کے دوران بھی  تریمول کانگریس کی رہنما،  وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کی مندروں میں حاضری بڑھی، اپنے انتخابی جلسوں میں وہ    چنڈی پاٹھ، گیاتری منتر اور کالی  منترا پڑھتی رہیں،  اور درگا نام جپتی رہیں۔۔ اور بار بار اپنے پکے نسلی برہمن اور سچے ہندو ہونے کا ثبوت فراہم کرتی رہیں۔ اتر پردیش کی حالیہ صوبائی انتخابی مہم میں بھی اپوزیشن کی سب سے بڑی پارٹی سماج وادی پارٹی  کے لیڈر اکھیلیش یادو بھی اپنے کو اسلام اور مسلمانوں کی ہر علامت سے دور رکھ کر زیادہ سے زیادہ ہندو  بننے کی کوشش میں لگے ہیں۔ کرشن جی خود ان کے خواب میں آکر انھیں مکھیہ منتری (وزیر اعلیٰ) بننے کی ”بشارت“ دے چکے ہیں۔ انھیں مسلمان کے ووٹ کی ضرورت ہی نہیں ہے۔  اس ماحول میں مسلم رہنما وُں کی سیکولرزم کی دعوت دراصل ’’نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم،  نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے ہم‘‘ کے مصداق ہے۔

مسلمانوں کو خوب اچھی طرح  معلوم ہے اور نہیں معلوم تو انھیں معلوم ہونا چاہیے اور قرآن و حدیث کے ذریعہ ہمیں اچھی طرح بتا دیا گیا ہے، اور بار بار اس بات کا اعادہ کیا گیا ہے کہ اللہ نے صرف ایک دین اسلام ہی  اتارا ہے۔ اس ایک دین کے علاوہ اللہ کو کوئی دین خواہ وہ مذہبی ہو یا سیاسی (دین اسلام میں مذہب اور سیاست کی کوئی تفریق نہیں)، وہ قابل قبول نہیں ہے۔  اللہ کے ہر نبی، ہر پیغمبر، ہر رسول کی دعوت،  دعوت اسلام تھی۔ رسول اللہ ﷺ کی دعوت اسی دین اسلام کے احیا کے لئے تھی۔ گزشتہ نبیوں کے جانے کے بعد اس دین اسلام کو بگاڑ دیا گیا تھا۔  ایک منحرف دین کی جگہ آپ ﷺ نے ایک غیر منحرف سچا دین اسلام پیش کیا ہے۔ آپ ﷺ کے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد اب پوری دنیا کو اس  پیغام کے پہنچانے کا فریضہ امت مسلمہ کا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے  دو چیزیں چھوڑی ہیں ایک شریعت اور دوسری  امت مسلمہ۔  دونوں کے تحفظ کی ذمہ داری اللہ نے لے لی ہے۔ لیکن امت مسلمہ کے لیے یہ تحفظ اس کی ذمہ داری سے مشروط ہے۔ ان کی  یہ ذمہ داری ہے کہ وہ  ایک طرف اپنی ذاتی اور اجتماعی زندگی میں شریعت کا عملی نمونہ بنیں اور دوسری طرف  اس شریعت کے نفاذ کے لئے عملی جدوجہد کریں۔ اسی ایک مقصد کے لیے تحریک چلائیں، اسی ایک مقصد کے لیے جدو جہد کریں، اسی کے لیے جئیں اور مریں۔

 ہمارے انسانی بھائی  ہندو بہت تیزی سے ہندوتوا کی طرف یعنی ایک منحرف دین کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ہمیں انھیں سچے دین کی طرف رہنمائی کرنی ہے۔ سچے دین کی دعوت ان کے سیاسی رہنماوُں کو بھی دینا ہے اور مذہبی رہنماوُں کو بھی۔ یہ دعوت بی جے پی کے لیے بھی ہے، آر ایس ایس  کے لیے بھی  اور تمام ’’سیکولر‘‘ جماعتوں کے لیے بھی۔ یہ دعوت خاص لوگوں کے لیے بھی ہے، اور عام لوگوں کے لیے بھی۔ ہر مسلمان کو اپنے  غیر مسلم ساتھیوں، اپنے پڑوسیوں، اپنے دفتر کے کارکنان،  سب کو اسلام کی دعوت دینی  ہے۔ اسلام کی تعلیمات کو ہر گھر تک پہنچانا ہے۔انھیں قرآن اور اسلامی لٹریچر ان کی اپنی زبان میں پہنچانا ہے۔ یہ ذمہ داری فرض ہے۔ اس کا تعلق اب خود مسلمانوں کے وجود اور بقا سے ہے۔ امت مسلمہ کی زندگی اب اسی سے وابستہ ہے۔ چنانچہ اب کسی اور بات میں وقت ضائع کرنا، حد درجہ کی کوتاہی ہے۔

سیکولرزم کو جن اچھے معنی میں لیا جاتا ہے (یعنی مذہبی رواداری)، اس کے مقابلہ میں اسلام کے پاس بہت اونچے درجہ کی اصطلاح ہے، جس کا نام توحید ہے۔  توحید کا عقیدہ نہ صرف وحدانیت خدا کا عقیدہ ہے،  بلکہ یہ وحدانیت انسان اور وحدانیت کائنات کا بھی عقیدہ ہے۔ توحید کا یہ سبق ہے کہ خدا بھی ایک ہے، انسان بھی ایک ہے، اور کائنات بھی ایک ہے۔  عقیدہ توحید، سیکولرزم کے ساتھ ساتھ نیشنلزم اور راشٹرواد کی بھی جڑ کاٹ دیتاہے۔  دنیا کا ہر انسان، ایک باپ اور ایک ماں، آدم اور حوا کی اولاد ہے۔ اور سب آپس میں بھائی بہن ہیں۔ ان کے درمیان میں کوئی بھید بھاؤ نہیں ہونا چاہئے۔ یہاں چھوت چھات کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ہر موحد مسلم پر احترام آدمیت فرض ہے۔ وہ کسی دوسرے انسان کے ساتھ ظلم اور نا انصافی کا معاملہ نہیں کر سکتا، خواہ  اس کا تعلق کسی قوم، کسی ملک، اور کسی مذہب سے ہو۔ جیسے جیسے انسان اپنے خدا کو پہچانے گا، اور مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لے گا، دنیا کا ہر غم، ہر دلدر دور ہو جائے گا۔

جب تک ہم عقیدہ توحید پر یکسو نہیں ہو جائیں ہم اسے دوسرے کے لیے قابلِ قبول نہیں بنا سکتے، اس کی دعوت نہیں دے سکتے۔   تاہم یہ دونوں عمل ساتھ ساتھ شروع ہونا چاہیے۔ توحید ہمارے عقیدہ کا، ہمارے عمل کا،  ہماری تحریک کا، ہماری دعوت کا، ہماری جدوجہد کا، ہمارے شب وروزکا،  مرکز و محور ہونا چاہئے۔ یہ ہمارے سانسوں میں رچا اور بسا ہونا چاہئے۔

ہمارا  دستورحیات قرآن ہے۔ کسی  اور سمودھان، کسی  راشٹر واد، کسی اکثریتی اور اقلیتی نظریہ کو ایک لمحہ دینا بھی  توحید سے انحراف ہے۔ کلمہ  شہادت کے ساتھ شہادت کا مرتبہ ہی سب سے اونچا مرتبہ ہے۔ ہر مسلم کو، تحریک اسلامی کے ہر فرد کو اسی کی تمنا کرنی  چاہیے، اور اسی کی کوشش کرنی چاہیے۔

 

 

E-Mail: AsSeerah@AsSeerah.com

 

Twitter: https://twitter.com/AsSeerah

 

YouTube: 

 

https://www.youtube.com/AsSeerah

 

English Blog: 

 

https://www.as-seerah.com/

 

Urdu Blog: 

 

http://www.raastanews.com/

 

Subscribe Weekly E-Newsletter:

 

AsSeerah+subscribe@groups.io

 

Your Comment