تازہ ترین خبریں اور تجزیے

معیاری صحافت اور درست معلومات کا اولین مقام

علمائے پاکستان سے سوال (4)
علمائے پاکستان سے سوال (4)

’’اسلامی دستور‘‘ رکھنے والی ’’اسلامی ریاست‘‘ میں آبادی گھٹانے اور پیدائش سے پہلے بچوں کے قتلِ عام کا پروگرام وفاقی اور صوبائی سطح پر سرکاری محکموں میں جاری ہے۔ حکومت اب ایک بل لانے والی ہے تاکہ اسے قانونی طور پر نافذ کیا جائے۔ دہائیوں سے آبادی کم کرنے، بلکہ ختم کرنے کے لیے وفاقی اور صوبائی ادارے کام کر رہے ہیں۔ گزشتہ کالم میں ہم نے وفاقی اداروں کا ذکر کیا تھا۔ اس کالم میں صوبائی اداروں کی بات کرتے ہیں۔

مکمل پڑھیں
علمائے پاکستان سے سوال (3)
علمائے پاکستان سے سوال (3)

یہ سلسلہ کا تیسرا، انتہائی شدید اور بے باک کالم ہے جس میں مصنف نے پاکستان پاپولیشن سمٹ 2025 کو کھلم کھلا پیدائش سے قبل بچوں کے قتلِ عام اور نسل کشی کا منصوبہ قرار دے کر اسے ریاستی، عالمی اور لبرل میڈیا کی مشترکہ سازش کہا ہے۔

مکمل پڑھیں
علمائے پاکستان سے سوال (2)
علمائے پاکستان سے سوال (2)

یہ سلسلہ کا دوسرا کالم ہے۔ مصنف نے آبادی کنٹرول کو کھلم کھلا ”قبل از پیدائش بچوں کا قتلِ عام“ اور ” انسانی نسل کشی“ قرار دیا ہے۔ آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور مغربی طاقتوں کی سرپرستی میں حکومت آئینی ترمیمی بل کے ذریعے ”فیملی پلاننگ“ کو قانونی تحفظ دینے والی ہے، جسے مصنف صہیونی منصوبہ قرار دیتے ہیں۔ دنیا بھر میں آبادی پہلے ہی ریورس گیئر لگ چکا ہے (چین منفی 0.15%، بھارت 0.86%، یورپ-امریکا تباہ کن گراوٹ)، لیکن پاکستان میں شرحِ نمو 2% سے گھسٹ کر 1.5% پر آ گئی، پھر بھی ”مزید کمی“ کا بل لایا جا رہا ہے۔

مکمل پڑھیں
علمائے پاکستان سے سوال (1)
علمائے پاکستان سے سوال (1)

یہ مضمون جو پاکستان میں آبادی کنٹرول (birth control) اور خاندانی نظام کی تباہی کے پیچھے عالمی صہیونی-مغربی ایجنڈے کو بے نقاب کرتا ہے۔ یہ کالم دراصل سلسلہ وار سیریز کا پہلا حصہ ہے جس میں اگلے حصوں میں پاکستان پاپولیشن سمٹ 2025 اور آبادی کنٹرول بل کی تفصیلات آنی ہیں۔ حقائق، اعداد و شمار اور تاریخی حوالوں سے بھرپور۔

مکمل پڑھیں
افغانستان پر حملے کی تیاری مکمل؟
افغانستان پر حملے کی تیاری مکمل؟

24 نومبر 2025ء کو پشاور میں فرنٹیئر کانسٹیبلری (FC) کے ہیڈکوارٹرز پر حملہ ہوا۔ کم از کم تین اہلکار شہید، پانچ زخمی۔ ذمہ داری قبول کرنے والا گروپ جماعت الاحرار (JuA) تھا، جسے فوراً تحریک طالبان پاکستان (TTP) سے "منسلک" قرار دے دیا گیا۔یہ وہی پرانا نسخۂ کیمیا ہے جو کاونٹر ٹیرورزم کے نام سے مشہور ہے:

مکمل پڑھیں
پاکستان ـ اسرائیل: کیا پالیسی واقعی الٹ گئی؟ (2)
پاکستان ـ اسرائیل: کیا پالیسی واقعی الٹ گئی؟ (2)

ٹرمپ کا نام نہاد "امن معاہدہ" اب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے بھی منظور ہو گیا ہے۔ 17 نومبر 2025 کو قرارداد نمبر 2803 (2025) کو سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان میں سے تین اور دس غیر مستقل ارکان میں سے دس نے حق میں ووٹ دیا۔ ان غیر مستقل ارکان میں تین مسلم ممالک بھی شامل ہیں: پاکستان، الجزائر اور صومالیہ۔ تینوں نے اس قرارداد کی حمایت کی۔ مستقل ارکان روس اور چین نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا

مکمل پڑھیں
پاکستان ـ اسرائیل: کیا پالیسی واقعی الٹ گئی؟  (1)
پاکستان ـ اسرائیل: کیا پالیسی واقعی الٹ گئی؟  (1)

1999ء میں جنرل پرویز مشرف نے وزیراعظم نواز شریف کو اعتماد میں لیے بغیر کارگل کی چڑھائی کی۔ بہت سے تجزیہ کاروں اور سابق امریکی سفارت کاروں کے مطابق یہ آپریشن امریکی اشارے پر ہوا تھا۔ جب بھارت کو مکمل طور پر امریکی کیمپ میں منتقل کرنے اور اس کی معیشت بڑی امریکی کمپنیوں کے لیے کھولنے کے مقاصد پورے ہو گئے تو واشنگٹن نے مشرف کو واپسی کا حکم دے دیا۔ کارگل کے ساتھ ہی مشرف کا پروفائل بلند کیا جا رہا تھا کیونکہ 9/11 کے فوراً بعد افغانستان پر حملے کا فیصلہ ہو چکا تھا اور امریکہ کو پاکستان میں پارلیمنٹ نہیں، صرف ایک شخص سے ڈیلنگ چاہیے تھی۔ وہ شخص پاک فوج کا سربراہ ہوتا ہے، ہمیشہ سے یہی رہا ہے۔

مکمل پڑھیں
فوجی آمریت کا آئینی تحفظ (2)
فوجی آمریت کا آئینی تحفظ (2)

پاکستان کے آئین میں 27ویں ترمیم نے پاکستانی عدلیہ کو تو ڈھیر کر ہی دیا ہے، اور اس پر بہت کچھ شائع ہو رہا ہے اور وکلاء اور میڈیا میں زیر بحث ہے۔ لیکن جس بات پر کم بات ہو رہی ہے، وہ ملٹری ڈکٹیٹرشپ کو آئین طور پر تسلیم کر لینا ہے۔ پاکستانی میڈیا اور صحافیوں میں فوج پر بات کرنے کی جرأت کم ہو گئی ہے۔ اب تنقید بھی ممکن نہیں رہی ہے۔

مکمل پڑھیں
فوجی آمریت کا آئینی تحفظ (1)
فوجی آمریت کا آئینی تحفظ (1)

پاکستان کے آئین میں جو 27ویں ترمیم ہوئی ہے، اسے تاریخی، فوجی، عالمی اور علاقائی جیو پالیٹکس کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کریں۔ ڈونلڈ ٹرمپ امن کے راستے کی باتیں تو کرتے ہیں، مگر دراصل وہ جنگ کی راہ پر مسلسل گامزن ہیں۔ انہوں نے اپنے محکمہ دفاع کا نام بدل کر محکمہ جنگ قرار دے دیا، تاکہ کسی کو ان کے مقاصد پر شک کی خلش ہی نہ ہو۔

مکمل پڑھیں
فسطین کے گرد گھومتی عالمی جغرافیائی سیاست
فسطین کے گرد گھومتی عالمی جغرافیائی سیاست

حالات حاضرہ اور عالمی و علاقائی جیو پولیٹکس میں بہت تیزی سے تبدیلی آ رہی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو کا بنایا ہوا نام نہاد امن معاہدہ دراصل فلسطین کے مکمل خاتمہ اور گریٹر اسرائیل کی طرف پیش رفت کا معاہدہ ہے۔ اسرائیلی قیدیوں کی واپسی، اور حماس کو نہتا کرنا اس کی پہلی سیڑھی ہے۔ جس میں اب تک ایک حاصل ہو چکا ہے۔ قطر، مصر، اور ترکی نے حماس کے قائدین کو یرغمال بنا کر جس معاہدہ پر دستخط کروائے ہیں، اس میں بھی حماس نے غیر مسلح ہونے کی شرط قبول نہیں کی ہے۔ حماس کے پاس وہ اسرائیلی قیدی جو اسرائیلی بمباری میں عمارتوں کے ملبہ میں دبے ہوئے ہیں، انھیں ہزاروں ٹن ملبہ میں ان کی دبی لاشیں نکالنا ناممکن ہے۔ اسرائیل یہ بات پہلے سے سمجھتا ہے۔ وہ حماس کو اس کے ضروری آلات و مشینری بھی مہیا نہیں کر رہا ہے۔

مکمل پڑھیں
ظہران ممدانی کی انتخابی مہم سے اٹھنے والے سوالات
ظہران ممدانی کی انتخابی مہم سے اٹھنے والے سوالات

جاوید انور  امریکہ کے سب سے بڑے شہر نیو یارک کے میئر کے انتخاب کے لیے ظہران ممدانی کی مہم کو، خصوصاً پاکستان اور برصغیر کے لوگوں کو، جو امریکہ اور نیو یارک سے مرعوب رہتے ہیں، غور سے مطالعہ کرنا چاہیے۔ میئر کا الیکشن نومبر 2025 میں ہوگا۔ ظہران ممدانی ڈیموکریٹک پارٹی کی نامزدگی جیت چکے ہیں۔ بلاشبہ، وہ ایک باصلاحیت شخصیت ہیں اور خود کو مسلم ڈیموکریٹ سوشلسٹ کہتے ہیں۔ انہوں نے ایک انتہائی کامیاب انتخابی مہم چلائی ہے۔ دیگر سیاستدانوں کی طرح ان کا بھی معاشی ایجنڈا ہے، لیکن یہ کہنا بجا ہوگا کہ ان کا ایجنڈا دوسروں سے بہتر ہے، اور اس کی پیشکش کا انداز اس سے بھی زیادہ پرکشش ہے۔

مکمل پڑھیں
ویکسینیشن: نسلوں کی نسل کشی؟
ویکسینیشن: نسلوں کی نسل کشی؟

نام نہاد "سرویکل ویکسین"، جسے HPV (ہیومن پاپیلوما وائرس) ویکسین کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، انسانیت کی مستقبل پر ایک ہتھیار بند حملہ سے کم نہیں ہے۔ جب پاکستان میں نوجوان لڑکیوں کو نشانہ بنانے والی HPV ویکسین مہم کی خبر ملی جو 15 سے 27 ستمبر 2025 تک چل رہی ہے، تو میرے اندرونی الارم کی گھنٹیاں پہلے سے زیادہ شدت سے بجنے لگیں۔ میں نے برسوں سے بگ فارما کی دھوکہ دہی اور انسان مخالف سازشوں پر نظر رکھی ہوئی ہے، اور   میں سمجھتا ہوں کہ یہ ان کی شیطانی کتاب کا ایک اور باب ہے۔

مکمل پڑھیں
تعلیم کی ترجیحات
تعلیم کی ترجیحات

قدیم تہذیبوں سے لے کر ابراہیم (علیہ السلام) اور محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی قائم کردہ تہذیب تک، تعلیم کی ترجیحات کم و بیش ایک جیسی ہی تھیں۔ کتاب (وحی) اور حکمت کا علم ہمیشہ بنیادی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ "جس طرح کہ ہم نے تم میں سے ایک رسول کو بھیجا جو تمھیں ہماری آیات سناتا ہے، تمھاری زندگیوں کو سنوارتا ہے، تمھیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے، اور تمھیں وہ باتیں سکھاتا ہے جو تم نہیں جانتے تھے۔" [قرآن: البقرہ (2):151]

مکمل پڑھیں
تعلیم کا مقصد اور مدعا
تعلیم کا مقصد اور مدعا

"اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔" (البقرہ، آیت 201) اس دعا سے ہمیں ابتدا ہی میں یہ واضح ہوجانا چاہیے کہ صرف وہی نظامِ تعلیم درست ہے جو اس دنیا اور آخرت دونوں میں بھلائی (حسنات) کا ذریعہ ہو۔ یہی مسلمان نظام تعلیم کا اصل مقصد اور مدعا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ نظام تعلیم سو فیصد اس مقصدِ حیات کے تابع ہونا چاہیے، جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے: "میں نے جنّ اور انسانوں کو اس کے سوا کسی کام کے لیے پیدا نہیں کیا ہے کہ وہ میری بندگی (اطاعت) کریں۔"(الذاریات، آیت  56)

مکمل پڑھیں
اسلامی تعلیمی بورڈز کی ضرورت
اسلامی تعلیمی بورڈز کی ضرورت

تعلیمی بورڈز تعلیمی نظام کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ طلباء کو اسلامی طور پر ہم آہنگ معیاری تعلیم حاصل ہو۔ تعلیمی بورڈ ایک کمیٹی ہے جو کسی اسکول یا ضلع کے نصاب، پالیسیوں اور کام کے بارے میں تعلیم کے اسلامی اصولوں کے ساتھ ساتھ موجودہ وقت میں تعلیم کے ذریعے بااختیار بنانے کے مطالبات کی نگرانی اور فیصلے کرنے کی ذمہ دار ہے۔ اسلامی تعلیمی بورڈ دراصل کیا ہے؟

مکمل پڑھیں