وہ سانچے اب کہاں جن سے موتی جیسی شخصیات نکلتی تھی؟

سید خالد جامعی

 سید خالد جامعی

شاعر مشرق علامہ اقبال مرحوم کے مرشد اکبر الہ آبادی مرحوم کا عجیب شعر ہے

طوفان جوش دل کے آنسو میں

ایک جھلک میں موتی میں کیا دھرا ہے  

کیا موتی محض ایک بوند پانی کا نام ہے؟ دریا میں اور سمندر میں ہزار بوندیں، ہزار قطرے ہوتے ہیں صرف چند قطرے اور چند بوندیں پانی ہی میں موتی میں کیوں تبدیل ہو جاتے ہیں؟ ابر نیساں کا وہ قطرہ کسی خاص وقت میں سیپ کے اندر جا کر کیا قیامت برپا کر دیتا ہے، ایک آنسو اور ایک موتی بہ ظاہر پانی کی دو مختلف شکلیں ہیں لیکن کیا دونوں محض پانی ہیں؟ جدید سائنس اور منطقی و استخراجی ذہن اس سطح سے اوپر اٹھ کر چیزوں کو نہیں دیکھ سکتا ہے، لیکن حقیقت اس کے بالکل بر عکس ہے، آنسو کی طبعی صورت فی الحقیقت پانی کی بوند ہے، لیکن اصلا یہ آنسو طوفان جوش دل ہے جو کبھی مظلوم کی آنکھ سے ٹپکتا ہے تو عرش الہٰی لرزنے لگتا ہے، رحمت الہٰی جوش میں آ جاتی ہے اور مظلوم کی آہ و آنسو اور اللہ تعالی کے درمیاں کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہتی، یہ آنسو جب بچے کی آنکھ سے گرتا ہے تو رحم مادر کو جوش آ جاتا ہے، جب یہ آنسو ماں کی آنکھ میں لرزتا ہے تو دنیا بدل جاتی ہے، یہ آنسو جب کسی جانور کی آنکھ میں بھی جگمگاتا ہے تو رحم انسانی اوج پر ہوتا ہے اور لوگ موذی جانور کی مدد کےلئے بھی آمادہ ہو جاتے ہیں، یہ آنسو، آہ و بکاء کی صورت اختیار کر کے مظلوم مسافروں کے قلب و نظر سے گونجتا ہے تو بصرہ کے گلزاروں سے محمد بن قاسم مرحوم سندھ کے ریگزاروں میں مظلوموں کی مدد کےلئے چلا آتا ہے اس آنسو نے تاریخ کے کتنے مناظر بدل ڈالے اور کتنی تاریخیں رقم کی ہیں یہ خود ایک طویل تاریخ کا حصہ ہے، اس لئے کہ آنسو صرف آنسو نہیں وہ تو ان دلی کیفیات، جذبات، معاملات، تکالیف، دکھ، تاریخ اور مصائب و مشکلات کا ایسا اظہار ہے جو لوگوں کو قطرے میں دجلہ دکھا دیتا ہے اور عہد رفتہ کی پوری کہانی سنا دیتا ہے اسی طرح موتی محض موتی نہیں ہے کہ چند لمحوں میں یہ وجود میں آ گیا ہے، موتی بننے کا عمل ایک تاریخ ساز عمل ہے، موتی چند لمحوں میں نہیں بن جاتا، موتی بننے کا عمل محض کیمیائی عمل یا تعمل نہیں یہ ایک کیفیت، ایک لذت، ایک حاضری، حضوری، شب و روز کی محنت شاقہ کا وہ اخری ثمر ہے جب ایک قطرہ ابر نیساں سیپ کے منہ میں جاتا ہے اور اس کے رنگ و روپ کو شاہکار میں ڈھال کر اسے لا فانی کر دیتا ہے انسانی شخصیات اور عظیم لوگ بھی اسی طرح تیار ہوتے ہیں جس طرح ایک آنسو اور ایک موتی، اگر وہ حالات میسر نہ ہوں تو انسانی شخصیات بننے کا عمل ختم ہو جاتا ہے، کیا امت مسلمہ ایسے نا گفتہ حالات سے نہیں گزر رہی ہے؟ وہ سانچے کیوں ٹوٹ گئے ہیں، جن سے موتی جیسی شخصیات ڈھل کر نکلتی تھیں؟ کیا ان سانچوں کو از سر نو جوڑا اور ٹھیک کیا جا سکتا ہے جن سے موتی اور آنسو جیسی شخصیات ڈھل کر نکل آئیں؟

تبصرے 0

تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں...

تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں...

اپنا تبصرہ لکھیں
تمام تبصرے انتظامیہ کی منظوری کے بعد ظاہر ہوں گے۔
براہ کرم اپنا نام درج کریں (کم از کم 3 حروف)
براہ کرم اپنا تبصرہ درج کریں (کم از کم 10 حروف)
زیادہ سے زیادہ 1000 حروف