گناہِ جاریہ
مُلّا مغرب کی ڈائری
(یہ کالم سنجیدہ بھی ہے اور فکاہیہ بھی۔ سنجیدگی میں مزاح اور مذاق میں متانت پیدا کرنا بہت مشکل کام ہے۔ یہ ایک نئی کوشش ہے۔ اس میں کی جانے والی گفتگو حقیقی ہے، نام فرضی ہیں۔ کسی اتفاقی مشابہت کی ذمہ داری نہ مُلّا مغرب پر ہوگی، نہ راستہ نیوز پر۔ کالم پر تبصرہ ضرورلکھا کریں۔)
’’ووٹ یقیناً بڑی امانت ہے۔ اسے کسی ایسے فرد، گروپ یا پارٹی کو دینا یا اس کی سپورٹ کرنا، جس نے قانون سازی کے ذریعے ریاست، صوبے اور شہر کے لیے ایسے قوانین بنائے ہوں جن سے تعلیم، فیملی اور معاشرت خراب ہوتی ہو، جینڈر بدلا جاتا ہو، سیکس ایجوکیشن کے نام پر پورنوگرافی دکھائی اور پڑھائی جاتی ہو، بچوں کو پیدائش سے پہلے ہی ہلاک کرنے کا پلان بنایا جاتا ہو، برتھ روکنے کے لیے تمام میڈیکل سہولیات مفت پہنچائی جاتی ہوں، انسانی ساخت کو بگاڑا جاتا ہو، اللہ کی تخلیق کو بدلا جاتا ہو، بچوں کی بلوغت روکنے کے لیے سرکاری سرپرستی میں دوائیں مہیا کی جاتی ہوں، جینڈر بدلو تھیراپی کرائی جاتی ہو، انسانوں کی ہلاکت اور برتھ کنٹرول کے لیے خطرناک ویکسینز لوگوں کو دھوکے سے لگائی جاتی ہوں، اور جس ووٹ سے آزادی چھن جاتی ہو، ایک اللہ کی عبودیت سے نکال کر سب کا غلام بنایا جاتا ہو، جہاں ظلم کا نظام مستحکم کیا جاتا ہو، عدل کا جنازہ نکلتا ہو، مساوات پر کلہاڑا چلتا ہو، وہ ووٹ گناہِ جاریہ بھی ہے اور عذابِ جاریہ بھی۔ جس طرح نیک کام کے نتائج نسل در نسل چلتے ہیں، اسی طرح برے کام کے نتائج بھی قیامت تک جمع ہوتے رہیں گے۔ اسی لیے ترازو قیامت کے دن قائم ہوگا، مرنے کے فوراً بعد نہیں۔‘‘
علامہ دانش کا لیکچر جاری تھا:
’’صدقۂ جاریہ اور ثوابِ جاریہ کی احادیث سب جانتے ہیں، کیونکہ چندہ وصولی والے ادارے اور پروفیشنل اسلامی اسکالرز انھیں پُرزور انداز میں بیان کرتے ہیں۔ لیکن یہی ادارے اور یہی اسکالرز گناہِ جاریہ والے تمام ’’اعمال‘‘ پر خاموشی برتتے ہیں، بلکہ اکثر ان کے حمایتی بھی بن جاتے ہیں۔ بہت افسوس کی بات یہ ہے کہ ان کی اس روش سے برائیاں پھیل رہی ہیں اور بھلائیاں سمٹ رہی ہیں۔‘‘
علامہ دانش نے بہت دردناک لہجے میں بات آگے بڑھائی:
’’تعلیم اور سماج پر فاحش قوتوں کا غلبہ ہو چکا ہے۔ قرآن نے بھلائی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا حکم دیا تھا، لیکن یہ لوگ الٹا کام کر رہے ہیں۔ ان کے ہاں برائیاں پروان چڑھ رہی ہیں اور بھلائیوں کا قحط پڑا ہوا ہے۔ قرآن نے ان سے کہا تھا کہ بھلائی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے سے تعاون کرو، اور برائی اور گناہ کے کاموں میں تعاون نہ کرو۔ اور یہ اس کا بالکل برعکس کر رہے ہیں۔‘‘
آپ نے میرے ماہنامہ ’’آفاق‘‘ ٹورونٹو (مرحوم) میں شائع ہونے والا مستقل کالم ’’مُلّا مغرب کی ڈائری‘‘ پڑھا ہوگا تو اس میں مسٹر چنگار اور بھئی چٹیل کے نام تو پڑھے ہی ہوں گے۔ اور بھی کئی نام ہیں جنھوں نے کینیڈا میں قومِ لوط کی باقیات کو دریافت کیا، انھیں سجایا، سنوارا، سیاستدان بنایا اور مقتدر کیا۔ وقتاً فوقتاً ان کا تذکرہ آتا رہے گا۔ ان لوگوں نے مسٹر فرے اور مسز وہسکی کی زبردست انتخابی مہم چلائی اور تمام اسلامی قوتوں کو ووٹ کے لیے یکجا کیا۔ ان میں ایک اسلامی جماعت کے اعلیٰ سطحی لیڈر مسٹر جاز جاہر بھی تھے۔
مسٹر جاہر کی کینیڈا میں سیاسی جدوجہد کا کل اثاثہ ہی بابا فاحش مسٹر فرے اور ماتا فاحش مسز وہسکی کی سیاسی مہم ہے۔ اس خدمت کے عوض وہ مقامی لبرل رائڈنگ کے نائب صدر تو بن گئے، لیکن ایم پی کے لیے لبرل نامزدگی کا انتخاب نہ جیت سکے۔ حالانکہ انھوں نے لبرل پارٹی کے ارکان، یعنی ووٹرز کو ’’میرے لبرل بھائیو!‘‘ کہہ کر بہت جذباتی اپیل بھی کی تھی۔ اپنے تقسیم کیے جانے والے فلائر میں مسٹر جاہر نے مسٹر فرے کے ساتھ اپنی یاری والی تصویر بھی لگائی تھی، اور صاف لکھا تھا کہ انھوں نے مسٹر فرے (وفاقی) اور مسز وہسکی (صوبائی) کی الیکشن کمپین چلا کر لبرل قوتوں کو بہت تقویت پہنچائی ہے۔
لبرل امیدواروں کی نامزدگی کے مکالمے کے پروگرام میں کسی ووٹر نے ہم جنس پرستی، ہم جنس شادی اور جینڈر آئیڈیالوجی پر سوال اٹھا دیا تو جاز جاہر ذرا بھی نہیں گھبرائے۔ کہہ دیا کہ ’’ہمارا ایمان کینیڈین دستور، چارٹر آف رائٹس اینڈ فریڈمز اور یہاں کے قوانین پر ہے۔‘‘ علامہ دانش کو جب معلوم ہوا تو وہ تلملا کر بول اٹھے: ’’ہاں، جاہر بولے گا، ضرور بولے گا۔ چودہ سو سال پرانا اللہ کا دیا ہوا دستور اب پرانا ہو چکا ہے ناں (نعوذ باللہ)! اب ہماری ہدایت و رہنمائی کا ماخذ یہی کینیڈین دستور ہی تو ہے۔‘‘ جاز جاہر لبرل بت کدے میں اپنا ایمان اَرپِت کرنے کے بعد بھی منتخب نہ ہو سکے۔ ان کے لبرل بھائیوں نے پاپ ایلیفینٹ کو نامزد کر لیا، جو شاید چوتھی یا پانچویں بار ایم پی بن چکے ہیں۔
جاز جاہر سے بہتر درسِ قرآن پورے اونٹاریو میں کوئی نہیں دے سکتا۔ لوگ خوب واہ واہ کرتے ہیں۔ میں بھی ان کا بِگ فین رہا ہوں، بلکہ ’’رہا ہوں‘‘ کے بجائے صرف ’’ہوں‘‘ کہنا ہی حسبِ حال ہوگا۔ اسلامی جماعتوں میں حصولِ کرسی کے لیے نجویٰ (بمعنی کینوسنگ) کے موضوع پر ان سے بارہا گفتگو ہوتی رہی۔ یہ ان کی دلچسپی کا سب سے اہم موضوع ہے۔ سودی مارگیج کا راستہ اپنانے میں بھی مسٹر جاہر کا شمار السابقون الاوّلون میں ہوتا ہے۔ دو بار اسلامی جماعت کے صدر بھی بن چکے ہیں، اور اب بھی ارادہ نیک ہی ہے۔ مسٹر جاہر کی چمتکاری لیڈرشپ کا جواب نہیں۔ جماعت کے شرفا ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑے رہے ہیں، اور کھڑے رہیں گے۔
مُلّا (راقم) کی نیک خواہشات بھی ہمیشہ ان کے ساتھ رہی ہیں۔ انھیں مجھ سے ناراضگی صرف اس بات پر ہے کہ میں سودی مارگیج کے لیے ان کے ساتھ نہ جا سکا۔ اور اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ مفتی التقویٰ دامت برکاتہم نے مجھے ڈرا دیا تھا۔ کہنے لگے: ’’قرآن میں آیا ہے کہ ’جو لوگ سود کھاتے ہیں، ان کا حال اس شخص کا سا ہوتا ہے جسے شیطان نے چھو کر باؤلا کر دیا ہو۔‘ یہ حال ان کا صرف آخرت ہی میں نہیں، دنیا میں بھی ہوگا۔‘‘ آخرت کا معاملہ تو شاید ذرا دور کا تھا، لیکن ابھی سے باؤلانے اور پگلانے کے ڈر سے میں ان کے ساتھ نہیں گیا۔
اب واپس مسٹر فرے اور مسز وہسکی کے ٹاپک پر آتے ہیں۔ جب یہ لوگ پاور میں آ گئے تو انھوں نے وفاقی اور صوبائی قوانین میں تبدیلیاں کر کے سوسائٹی کو فاحش قوتوں کے مکمل کنٹرول میں دے دیا۔ مسی ساگا کے حالیہ میونسپل الیکشن میں میئر کی ریس میں مسز وہسکی کی نظریاتی بہن مسز بونی بھی شامل تھیں۔ بونی کی سپورٹ میں کئی اسلامی سنٹرز کے منتظمین بھی شامل ہو گئے تھے۔ ظاہر ہے یہ کینیڈا ہے، سب حضرات کو ایسا کرنے کی پوری آزادی ہے۔ بونی پہلے بھی میئر رہ چکی ہیں۔
تاہم بونی کی کامیابی کو مشکوک پا کر مسی ساگا کی فاحش لبرل قوتوں کے ہمنوا مسلم لیڈرز آخرکار مسٹر الوائن کو لے آئے، جو تینوں امیدواروں میں فاحشزم کا سب سے بڑا علمبردار تھا: قوسِ قزح کا جھنڈا لہرانے اور رینبو کراس واک بنوانے کا چیمپئن۔ مسلمانوں کا ووٹ ادھر چلا گیا۔ اور ان لوگوں نے ہم جنس شادی کے قانون پر ’’ناں‘‘ کہنے والی، اور غزہ و فلسطین کے بچوں کی نسل کشی پر رونے اور آواز اٹھانے والی مسز کرومبی کو ہروا دیا۔ مسلم لِبرلُون نے مسلم ووٹ تقسیم کروا دیے۔
کہانیاں لکھنے کو تو بہت ہیں، لیکن کالم کا سائز کہتا ہے: میاں مُلّا، اب بس!
MullaMaghrib@Gmail.com
تبصرے 0
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں...
اپنا تبصرہ لکھیں